تازہ ترین
چین کی تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے بارے میں امریکہ کے غلط بیان کی سخت مذمت

چین کی تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے بارے میں امریکہ کے غلط بیان کی سخت مذمت

اٹھارہویں شنگریلا مذاکرات سنگاپور میں منعقد ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر یکم جون کو امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شاناہان نے اپنے خطاب میں بہتر چین امریکہ عسکری تعلقات کے قیام کے ساتھ ساتھ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے مسائل پر وہی اپنی روایتی پرانی باتیں دہراتے ہوئے نام نہاد” تائیوان تعلقات کے قانون” کے مطابق تائیوان کے لئے لازمی حمایت کا اظہار کیا ۔ مذاکرات میں شریک چینی مندوب مرکزی فوجی کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف کے ڈپٹی آف اسٹاف شیاو مینگ یوان نے کہا کہ تائیوان زمانہ قدیم سے ہی چین کا اٹوٹ حصہ رہا ہے ۔ ایک چین کا اصول چین امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں تائیوان کے حوالے سے دیے گئے بیانات کےذریعے ایک چین کے اصول اور چین امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی خلاف ورزی کی ہے جو چین کے اقتدار اعلی اور سلامتی کے احترام کی خلاف ورزی ہے اور اس سے تائیوان کے علیحدگی پسندوں کو غلط سگنل ملا ہے ۔ چینی فوج اپنے ملک کی وحدت کو برقرار رکھنے کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔

شاناہان نے اپنے خطاب میں بحیرہ جنوبی چین میں نام نہاد آزاد جہاز رانی سے متعلق اور جزائر کی عسکری نوعیت کی کارروایئوں کا بھی تذکرہ کیا۔ شیاو مینگ یوان نے کہا کہ چین کو بحیر ہ جنوبی چین کے جزائر اور اس کے نزدیک سمندری علاقے کا ناقابل بحث اقتدار اعلی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ جنوبی چین میں امریکہ کا عسکری عمل خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

افغانستان میں امریکہ کی سیاہ تاریخ

افغانستان میں امریکہ کی سیاہ تاریخ

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons