ہواوے

ہواوے کمپنی کی جوابی کارروائی، چینی قوم کی دوراندیشی کی عکاس ہے، سی آر آئی کا تبصرہ!

امریکہ کی وزارت تجارت نے سولہ مئی کو ہواوے کمپنی اوراس سے منسلک ستر صنعتی اداروں کو برآمدی پابندی کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ہواوے کی امریکی صنعتی اداروں سے ٹیکنالوجی اور فٹنگز کی خریداری پر پابندی لگا دی۔ اس اقدام کا مقصد ہواوے کی تخلیق وترقی گلا گھونٹتے ہوئے، چین کی اعلی سائنسی و تکنیکی ترقی کو روکنا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکہ کے غلبے کو برقرار رکھنا ہے۔

تاہم واشنگٹن کی سوچ کے برعکس ہواوے کمپنی نے فوری طورپر اپنے بیک اپ حل پرعمل درآمد کیا جو کہ دس سال سے زیادہ کی تحقیقات پر مبنی ہے، اس کے ذریعے ہواوے کمپنی کی بیشتر مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ امریکہ نے بہت پہلے ہی دعوی کیا تھا کہ فائیو جی کے مقابلے میں امریکہ کو جیتنا ہوگا اوراس سلسلے میں کسی چیلنجرکو سامنے آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی لیے امریکہ نے جھوٹے بہانوں سے ہواوے کمپنی پر پابندی لگائی۔ تاہم امریکہ کے اس اقدام سے ہواوے سے تعاون کرنے والی امریکی کمپنیوں کو بھی کافی نقصانات پہنچے۔ عالمی سپلائی چین اور بنی نوع انسان کی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو سنگین ٹھیس لگائی گئی۔ فرانسیسی صدرامینوئیل میکرون اور جرمن چانسلر انجیلا مرکیل سمیت یورپی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ ہوا وے پر پابندی کے عمل سے متعلق امریکہ کی نہیں مانیں گے۔
مقامِ شکر ہے کہ ہوا وے کمپنی نے دس بارہ سال پہلے ہی امریکہ کے ممکنہ منفی اقدامات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کی تھیں ۔ بیک اپ فارمولے کا نفاذ کمپنی کی دور اندیشی کا عکاس ہے۔نا صرف چینی کمپنیاں بلکہ تمام چینی قوم مشکلات میں پروان چڑھتی اور مزید مضبوط ہوتی ہے۔امریکی پابندی کے خلاف ہوا وے کمپنی کی جوابی کارروائی سے چینی عوام نے پرسکون رہتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی تیاری کی اہمیت کو سمجھا ہے اور مشکلات کو دور کرکے جدت کاری کے خیالات کو بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کا دورہ تائیوان عالمی تنقید کی زد میں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons