تازہ ترین

مستقبل کی جنگیں میدان جنگ میں نہیں بلکہ کلاس روم اور لیباریٹریز میں لڑی جا رہی ہیں، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، مستقبل کی جنگیں میدان جنگ میں نہیں بلکہ کلاس روم اور لیباریٹریز میں لڑی جا رہی ہیں، جس قوم کے کلاس روم اور لیباریٹریز مضبوط ہونگے اس کا مستقبل محفوظ ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں جدید مالیکیولر جینیٹکس اور جینومکس امراض کے ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹراور ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، گزشتہ دور میں بھی اعلیٰ تعلیمی منصوبوں پر ریکارڈ فنڈنگ کی جن کے تحت کئی ممالک میں پاکستان کے طلبا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے طلبا کو جدید دور کے تقاضوں سے متعلق آگاہی دیتے ہوئے زور دیا کہ طلبا اپنے آپ کو چوتھے انڈسٹریل ریولوشن کے ترقی کے ڈرائیورز کو اپنائیں، جدید دور میں ربوٹکس، کمپیوٹرز، ٹیلی کمیونیکیشن، نینو ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کوانٹم کمپیوٹنگ کا اہم کردار ہے،مستقبل کی جنگیں میدان جنگ میں نہیں بلکہ کلاس روم اور لیباریٹریز میں لڑی جا رہی ہیں، جس قوم کے کلاس روم اور لیباریٹریز مضبوط ہونگے اس کا مستقبل محفوظ ہوگا اورجس قوم کے کلاس روم اور لیباریٹرز بدحال ہونگی، اسکا مستقبل تاریک ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں تقریبا 80٘ کروڑ لوگ اناج کی عدم دستیابی کی وجہ سے بھوکے سوتے ہیں۔40،000 سے زائد اموات بھوک کی وجہ سے ہوتی ہیں، اناج اور خوارک کی کمی کو بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے ڈاو یونیورسٹی کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

چین میں ای-کامرس کا جامع ترقی میں کردار: جانیئے تجزیہ کار کی زبانی

Show Buttons
Hide Buttons