کشمیر، تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین کے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان گزشتہ 70 سال سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ چینی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے اور بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا تعلق موجود ہے جو حکومتوں کے درمیان کم اور لوگوں کے درمیان زیادہ ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کے تعلقات کے مقابلے میں بہت مختلف ہے، جہاں تعاون مفاد پر مبنی ہے، جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان حقیقی دوستی پہاڑوںسے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آہنی دوستی ہے جو کئی سال سے مختلف منصوبوں، مفاہمتوں اور حقیقی شاندار تعاون کے ساتھ مضبوط ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ برسوں کے دوران J-17  کی مشترکہ تیاری، جبکہ صدر شی کے دورہ پاکستان کے بعد سے گزشتہ چند برسوں میں دوطرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ تعلق نہ صرف اقتصادی شعبے میں، بلکہ دنیا بھر میں سامنے آنے والے مسائل پر بین الاقوامی تعاون پر بھی مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک انتہائی مختلف قسم کی صف بندی جاری ہے اور جانبداری کا رجحان فروغ پارہا ہے۔

چین نے بی آر آئی کو مشرق بعید، وسطی ایشیائی ممالک، حتیٰ کہ افریقہ تک وسعت دی ہے۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین تقریباً تمام قسم کی خارجہ پالیسی کے معاملات پر یکساں انداز میں سوچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں اہم شراکت دار ہیں، جس کا آغاز 10 سال پہلے کیا گیا تھا، جن میں سے سی پیک چین اور پاکستان کے درمیان اولین تعاون کی صورت میں سامنے آیا۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چین نے بی آر آئی کو مشرق بعید، وسطی ایشیائی ممالک، حتیٰ کہ افریقہ تک وسعت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ تصور ہے جسے پاکستان اور بین الاقوامی سیاست میں بہت سراہا جاتا ہے اور یہ تصور دوست ممالک کی ترقی پر مبنی ہے، لہٰذا امن و خوشحالی کے مستقبل میں جامع انداز میں حصہ لیتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی میں صرف چین اور پاکستان اکیلے اپنی ترقی کے بجائے پورے خطے میں پڑوسی ممالک  اور دیگر معاونین کے بارے میں نہیں سوچیں گے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ یہ ایک انتہائی شاندار تصور ہے جسے عملی جامہ پہنایا گیا ہے اور یہ علاقائی امن اور ترقی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی بھی امن کی طرف لے کر جاتی ہے۔ لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تعاون کی ایک اہم سطح ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں، جب سی پیک کا منصوبہ تشکیل دیا گیا اور اس کا آغاز کیا گیا، تو پاکستان میں توانائی کی کمی تھی اور اس میں بہت سے ایسے منصوبے ہیں جو چین کی مدد سے شروع کئے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے 10 منصوبوں کی ایک طویل فہرست ہے جو مکمل ہو چکے ہیں اور اُس وقت توانائی کے شعبے میں ترقی کی ضرورت تھی کیونکہ توانائی کے بغیر پاکستان میں کوئی دوسرا شعبہ ترقی نہیں کرسکتا تھا اور توانائی کی ضروریات پوری کئے بغیر صنعتیں بھی قائم نہیں ہو سکتیں۔

سی پیک کے منصوبے میں گوادر سے چین کی سرحد تک سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا چنانچہ جہاں تک توانائی کا تعلق ہے چین کا تعاون 1320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل ساہیوال کول پلانٹ اور 1320 میگاواٹ کے ہی پورٹ قاسم کول پلانٹ کے علاوہ چائنہ حب کول پلانٹ کے ساتھ ساتھ تھر کول انرجی کی ترقی اور کروٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 100 میگاواٹ کا قائداعظم سولر پروجیکٹ، یعنی تھرمل انرجی جنریشن سے علاوہ شمسی اور ماحول دوست توانائی کے حوالے سے بھی چین کا تعاون بہت بہتر رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں توانائی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے اور ذرائع آمد و رفت کی ترقی پر بھی توجہ دی گئی، جبکہ توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ہی تقریباً 800 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنز نصب کی گئیں اور سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے میں گوادر سے چین کی سرحد تک سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے، تاکہ سنکیانگ سے پاکستان اور گوادر تک تجارتی سرگرمیاں ممکن بنائی جا سکیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ توانائی، بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کی ترقی کے بعد  اب پاکستان  زراعت، آئی ٹی، غربت کے خاتمے کے حوالے سے تعاون میں بہتری کیلئے پرامید ہے اور سی پیک میں ایسے بہت سے منصوبے  اور شعبے شامل ہیں جن کی بدولت پاکستان کی حکومت چین سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔

بی آر آئی دراصل عالمی سطح پر تعاون کا ایک موثر نظام ہے جو دنیا کو بدلنے کیلئے کافی ہے۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک درست اطلاعات پہنچنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسی زمانے میں غلط اطلاعات کی بنیاد پر منفی پروپیگنڈا، جو مختلف مالک اور پورے خطے کے خلاف بھی رہا، اچھے اور صاف ستھرے مسائل کیلئے تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں نے کشمیر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اس معاملے کو درست انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین کے معاملے کی اصل حقیقت بھی دنیا کے سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بی آر آئی دراصل عالمی سطح پر تعاون کا ایک موثر نظام ہے جو دنیا کو بدلنے کیلئے کافی ہے اور اُس میں ایس ڈی جیز، ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک کے تعاون سے جاری تمام امور کی درست تصویر اجاگر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ سے حقیقت آشکار ہوسکتی ہے تاکہ منفی پروپیگنڈا کا مقابلہ کیا جاسکے، جو ایک مثبت اقدام ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی کا حامل ملک ہے، جبکہ پاکسان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے اور ان دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ کے درمیان تعاون صرف دونوں جانب عوام کو آگاہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ اصل حقائق دنیا تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے، تاکہ اقوام عالم کو معلوم ہوسکے کہ دونوں ممالک میں ترقی کی رفتار کیا ہے اور یکطرفہ مفاد کے بجائے خطے اور دنیا کی ترقی کیلئے کیسے منصوبے تشکیل دیئے جارہے ہیں۔

پاکستان نے وباء کی حالیہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے، جس میں این سی او سی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ انہوں نے کوویڈ کی وباء کے عروج میں چین کا دورہ کیا، جس کا مقصد اس امر کو سراہنا تھا کہ چین کس انداز میں اس وباء کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے سب سے پہلے اس وباء کی نشاندہی کی اور اس سے پوری دنیا کو آگاہ کرنے کے بعد ویکسین کی تیاری میں بھی ماہرانہ خدمات پیش کیں۔ پاکستان اس معاملے میں چین کا مشکور ہے کہ چین کی حکومت نے اپنے تجربات سے پاکستانی ماہرین کو بھی آگاہ کیا، ویکسین فراہم کی اور اور اس وقت پاکستان کو اس وباء سے بچنے کیلئے خصوصی اقدامات سے آگاہ کیا جب دنیا ان سے ناواقف تھی۔ صدر مملک نے کہا کہ وباء کے آغاز میں چین نے طبی ماہرین کی ٹیم کو پاکستان کی مدد کیلئے روانہ کیا، جبکہ پاکستان میں اس وباء کے علاج کیلئے اسپتالوں میں خصوصی سہولیات کی فراہمی میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے کوویڈ کی پالیسی میں حالیہ تبدیلی خوش آئند ہے، جس کے تحت چین میں عوامی سرگرمیوں کی اجازت کے ساتھ وباء کا علاج  بھی جاری ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے وباء کی حالیہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے، جس میں این سی او سی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مکمل لاک ڈاون کا نفاذ ممکن نہیں تھا، کیونکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ ہم بیروزگار ہونے والے محنت کشوں کی کفالت کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جزوی اور سمارٹ لاک ڈاون کا طریقہ کار اپنایا گیا، جس کی بدولت پاکستان بھی خطے میں اس وباء سے نمٹنے والے ممالک میں نمایاں رہا، جبکہ پڑوسی ملک بھارت میں کوویڈ کی صورتحال انتہائی خراب رہی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی ان کامیابیوں میں چین کا تعاون شامل ہے، کیونکہ پاکستان نے چین سے بہت کچھ سیکھا اور اسے اپنے حالات کے مطابق ڈھال کر کوویڈ کی وباء کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت نے بین الاقوامی مسافروں کی آمد و رفت بحال کردی ہے اور یہ چین کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے، کیونکہ چین نے کوویڈ کے آغاز سے ہی اس وباء کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بالآخر کامیابی حاصل کی۔

یہ امر قابل ستائش ہے کہ وبائی صورتحال کے دوران چین میں موجود پاکستانی طلباء کا خآص خیال رکھا گیا۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا کہ کوویڈ کی وباء کے پھیلاو سے اس امر کا اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ آئندہ کسی بھی وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے پیشگی تیاریوں کی ضرورت ہے، کیونکہ وباء اچانک حملہ آور ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہیضے جیسے وباء کے باعث دنیا بھر میں کروڑوں اموات ہوئیں۔  صدر مملکت نے کہا کہ عالمی سطح پر ترقی کے تیزرفتار سفر میں وباوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاریوں کی ضرورت ہے، کیونکہ ماحولیاتی اعتبار سے اس امر کے امکان میں اضافہ ہورہا ہے کہ وبائیں انسانیت کیلئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ ضروری ہے، تاکہ تمام ممالک ایک ساتھ مل کر وباء کی تشخیص اور اس کا مقابلے کر سکیں۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ دنیا نے وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں میں بہتری کے حوالے سے چین سے جو کچھ بھی سیکھا اس سے پاکستان نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور اب آئندہ کسی بھی وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے پیشگی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔  صدر مملکت نے اس امر کو قابل ستائش قرار دیا کہ وبائی صورتحال کے دوران چین میں موجود پاکستانی طلباء کا خآص خیال رکھا گیا اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی روئیے کی بدولت چین اور پاکستان کی دوستی پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان خاص تعاون ضروری ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہممسئلہ ہے جس کیلئے انفرادی کے بجائے اجتماعی سطح پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کی وجوہات میں پاکستان کا حصہ شاید ایک فیصد سے بھی کم تھا، لیکن پاکستان کو تباہ کن سیلاب جیسے مسئلے کا سامنا رہا، جس میں 3 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی، جو آبادی کا تقریباً 12 فیصد ہیں، بیروزگار ہوگئے۔ انہوں نے کہاک کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے اور بعض علاقوں میں اب تک سیلاب کا پانی موجود ہے، جس کی وجہ سے ایک فصل بالکل تباہ ہوگئی اور پانی کی موجودگی کی وجہ سے دوسرے سال کی فصل کاشت نہیں کی جاسکی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان خاص تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے علاوہ عالمی سطح پر بھی ان مسائل کے حل کیلئے پاکستان کو مدد کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان حالیہ تباہی کا بوجھ اکیلے برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا میں منعقدہ حالیہ کانفرنس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئےہیں ، تاہم پاکستان اپنے برادر ملک چین کا بھی بیحد مشکور ہے جس نے اس مد میں تقریباً 18 کروڑ ڈالر کی رقم پاکستان کے حوالے کرنے کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں بھی بھرپور معاونت فراہم کی ہے۔  انہوں نے کہا کہ سیلاب کے وقت مقامی سطح پر پاک فوج اور عوام نے بھرپور تعاون کیا اور ملک کو بہت بڑے جانی نقصان سے بچایا۔ صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ وقت میں پاکستان سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کی سرگرمیوں میں بتدریج پیشرفت کر رہا ہے اور اب عالمی برادری بھی پاکستان کی مدد کیلئے آگے آچکی ہے، تاہم پاکستان دوست ملک چین کا بیحد مشکور ہے جس نے اس سلسلے میں سب سے زیادہ مدد فراہم کی۔  انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے سیلاب سے نمٹنے کیلئے بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے کے علاوہ مختلف ڈیم کرنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ سیلابی پانی کو آبادی میں جانے سے روکا جائے اور اسے زراعت کیلئے استعمال کیا جائے،تاکہ خوراک کے مسائل پر قابو پایا جاسکے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں تبدیلی سے نمٹنا آسان نہیں، تاہماس سے نمٹنے کیلئے مختلف اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں بجلی کی پیداوار کیلئے معدنی ایندھن کے بجائے ماحول دوست ذرائع کا استعمال سب سے زیادہ اہم ہے۔  انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی چین نے پاکستان کو بھرپور معاونت فراہم کی ہے، جس کے تحت پاکستان میں سورج، ہوا اور پانی سے بجلی بنانے کے مختلف منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صورت میں پاکستان کا معدنی ایندھن پر انحصار کم ہوجائے گا جو مستقبل کیلئے خوش آئند ہے۔

چین نے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نجات دلائی، جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ صدر شی چن پھنگ کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے اس حقیقت کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا کہ چین کیلئے سوشلزم موزوں ہے جبکہ پاکستان میں موجوہ نظام ملک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ہر ملک اقتصادی پالیسیز کو اپنے مقامی لوگوں کے حالت کے مطابق ترتیب دے رہا ہے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ  چین میں منعقدہ موجودہ قومی کانگریس کی جانب سے اس حقیقت کو بھی سراہا گیا ہے کہ چین نے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نجات دلائی، جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے، اور یہ اقدام کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی گزشتہ 30 کے دوران حاصل کی گئی کامیابی پر مہر ثبت کرنے کے مترادف تھا، جس سے  پاکستان سیکھتا رہے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ چینی صدر شی چن پھنگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی جانب سے مستقبل میں پائیدار ترقی کا ہدف دراصل خطے کی ترقی اور انفرادی مفادات و خوشحالی کے بجائے علاقائی خوشحالی پر مبنی بین الاقوامی تعاون ہے اور یہی وجہ ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا آغاز کیا گیا۔  انہوں نے کہا کہ بی آر آئی کے ابتدائی 10 سال بہت کامیاب ثابت ہوئے اور یہ امر بھی ضروری ہے کہ تعاون کی دنیا میں نئے رویوں کے تحت مصنوعات کو بغیر کسی پابندی کے یا کم سے کم پابندیوں کے ساتھ ترسیل کی اجازت دی جائے، کیونکہ ماضی میں ایسے ہی رویوں کی بدولت مصنوعات کی آزادانہ ترسیل ہوا کرتی تھی۔ صدر مملکت نے کہا کہ مختلف ممالک پیداواری شعبے میں ترقی کر رہے ہیں، جیسا کہ پاکستان اور چین مختلف اشیاء تیار کر رہے ہیں، تو دنیا شاید انہیں تنہاء کرنے کا سوچ رہی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی حالیہ قومی کانگریس میں جن کامیابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان سے سیکھنے اور مستقبل کیلئے اہداف طے کرنے کا یہ نادر موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی چن پھنگ نے اپنے کتاب میں نچلی سطح پر لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے تجربات کی بنیاد پر بہت سے مضامین تحریر کئے ہیں، جبکہ چینی سوشلزم کے وسیع تر منصوبوں میں درحقیقت عوام کے حاصل کردہ تجربات کی ضرورت رہتی ہے اور شاید دیگر ممالک ایک دوسرے سے سیکھیں اور سوشلسٹ تصور کو بہتر بنائیں، جیسے یہ چین کیلئے موزوں ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اس سیاق و سباق میں اپنے ملک کو بہتر اور خوشحال بنانے، غربت میں کمی، تعلیم اور صحت میں بہتری کیلئے ایک دوسرے سے سیکھنا ہو گا اور ایسی صورت میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں صحت کے شعبے میں بہتری، غربت میں کمی اور سماجی عوامل پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جس کی بدولت ہم چین سے بہت کچھ سیکھتے رہیں گے۔

گوادر کی ترقی میں چین کا تعاون انتہائی اہم ہے، جہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان نے چین کی صنعتی ترقی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں مختلف خصوصی اقتصادی زونز کا قیام اس کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جہاں ٹیکس میں چھوٹ کے علاوہ مختلف مراعات بھی فراہم کی جارہی ہیں اور پاکستان نے اسی منصوبے کے تحت مقامی سطح پر خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقتصادی زونز میں فیصل اباد اور لاہور کی صنعتوں نے بھرپور سرمایہ کاری کی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ گوادر کی ترقی میں چین کا تعاون انتہائی اہم ہے، جہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خصوصی اقتصادی زونز کی حکمت عملی پر عملدرآمد کا آغاز کردیا ہے اور اب چین کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ضرورت ہے، جو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ 

گوادر بندرگاہ وسطی ایشیا ء اور چین سے تجارتی اشیاء کی نقل و حمل میں تیزی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ وقت میں صنعتی شعبے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کا وسیع امکان موجو دہے، کیونکہ پاکستان میں اجرت چین کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں جاری خوشحالی کے سفر کی بدولت مزدورو کی اجرت میں اضافہ جاری ہے، جبکہ پاکستان کم اجرت کے باعث چین کو افرادی قوت فراہم کر سکتاہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کی صورت میں پاکستان کی جانب سے بھرپور افرادی قوت فراہم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دورہ چین کے موقع پر تعاون کے 6 یا 7 معاہدوں پر مذکرات کئے گئے، جن کے تحت پاکستان چینی سرمایہ کاری کا منتظر ہے، جبکہ موجودہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کی بدولت پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے مزید امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ گوادر ایک انتہائی اہم بندرگاہ ہے، جو  وسطی ایشیا ء اور چین سے تجارتی اشیاء کی نقل و حمل میں تیزی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔  انہوں نے کہا کہ درحقیقت  چینی برآمدات اور درآمدات کے حجم میں اضافہ ضروری ہے اور گوادر اس کیلئے کلیدی کردار ادا کرے گا۔

جب آپ مختلف انسانوں میں فرق کریں گے تو مستقبل کی ترقی آپ سے دور ہوتی چلی جائے گی۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا کہ موجود دور میں عالمی سوچ کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ بدقسمتی سے دنیا میں جانبداری کا رجحان معمول بن چکا ہے اور بیشتر ممالک علاقائی سطح پر سوچنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم صرف ایشیاء، برصغیر، مشرق وسطیٰ یا صرف یورپ اور امریکہ کے بارے میں سوچیں گے تو وہاں درآمدات اور برآمدات کے دروازے بند ہونے کے علاوہ معلومات اور علم کے آزادانہ تبادلے کے امکانات محدود ہوجائیں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل کی دنیا میں انسانیت کی ترقی کیلئے باہمی تعاون بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ کی وباء اس کی ایک بہترین مثال ہے، جس میں معلومات کو محدود کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کا تبادلہ آزادانہ ہونا ضروری ہے، جس کی بدولت کوویڈ سے بچاو کی ویکسینز میں بہتری آئی، تاہم انہوں نے کہا کہ ویکسین کی جو مقدار امیر ممالک کیلئے دستیاب تھی وہ ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ صدر مملکت نے کہا کہ جب آپ مختلف انسانوں میں فرق کریں گے تو مستقبل کی ترقی آپ سے دور ہوتی چلی جائے گی۔

نیا ورلڈ آرڈر تنازعات کے بجائے اخلاقیات اور انسانیت پر مبنی ہونا چاہیئے۔ صدر مملکت

صدر مملکت نے کہا کہ جنگوں کو روکنے، ماحولیات میں بہتری، عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی اور وبائی امراض سے نمٹنے کیلئے عالمی تعاون انتہائی ضروری ہے، جو تصادم کے معاملات پر بھاری رقوم خرچ کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان فلسفہ اس لحاظ سے انتہائی مثبت ہے کہ دونوں ممالک جارحیت پر یقین نہیں رکھتے، تاہم اپنے ملک کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے مفادات کو اولیت دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے بھی عالمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کسی مفاد کے بغیر تعاون اور تجارت کے خواہشمند ہیں اور اسی تناظر میں چین نے دنیا کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا تصور پیش کیا، جو میں مشترکہ تعاون کو فروغ دیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ پہلے شمال-جنوب کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی، جو آج مشرق و مغرب کی اصطلاح میں تبدیل ہوچکی ہے، جو دنیا کو تقسیم کر رہی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ عالمی برادری کو بہت سے معاملات پر مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد عالمی تعاون ہو۔  انہوں نے کہا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی جعلی خبروں کا رجحان ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جعلی خبروں سے کیسے نمٹا جائے، کیونکہ اکثر جنگوں کی بنیاد بھی غلط معلومات کا پھیلاو ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ نیا ورلڈ آرڈر تنازعات کے بجائے اخلاقیات اور انسانیت پر مبنی ہونا چاہیئے۔

یہ خبر پڑھیئے

اٹھائیس جنوری: رات 9 بجے کا خبرنامہ

Show Buttons
Hide Buttons