استوائی گنی کے صدر تیوڈورو اوبیانگ کی سی ایم جی کے رپورٹر سے خصوصی بات چیت

استوائی گنی کےصدر تیوڈورواوبیانگ نے سی ایم جی کے رپورٹر کو اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ چین- افریقہ تعاون اور افریقی ممالک کی ترقی کے لیے چین کی طرف سےپیش کردہ”بیلٹ اینڈ روڈ” ہی افریقہ کے لیے غربت سے باہر نکالنے کا راستہ ہے۔ اس  لئے افریقی ممالک اپنی معیشتوں کی ترقی میں مدد کرنےکے لیے چین کی زبردست حمایت کو سراہتے ہیں۔

چین کے افریقہ میں امداد اور سرمایہ کاری میں اضافے پر کچھ مغربی ممالک چین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ چین نام نہاد “نو استعماریت” پر عمل پیرا ہے اور افریقہ میں “قرضوں کے جال”بنا رہا ہے۔ اس حوالے سے صدر تیوڈورو اوبیانگ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے اور ان مغربی ممالک  کے لیے باعث شرم ہے، کیونکہ آج افریقہ کو مغربی ممالک سے بہت کم امداد ملتی ہے۔ امداد حاصل کرنے کے لیے ہمیں ان کی عائد کردہ شرائط کو قبول کرنا پڑا اور وہ افریقی ممالک کے سیاسی حالات کو مکمل طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس طرح کی امداد کبھی بھی افریقی ممالک تک آسانی سے نہیں پہنچتی۔

صدر تیوڈورو اوبیانگ  نے کہا کہ اگر آپ نوآبادیات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو چین نے کسی افریقی ملک کو نوآبادیاتی نہیں بنایا، بلکہ یہ مغربی ممالک ہیں جنہوں نے ہمیں نوآبادیاتی بنایا۔ لہٰذا چین پر ان کی تنقید دراصل چین پر قابو پانےکی کوشش ہے، تاکہ چین افریقی ممالک کو امداد فراہم نہ کرے لیکن ہم یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ چین ہمارا بہترین دوست ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

ثروت گیلانی کا سوشل میڈیا صارفین کو سخت پیغام

ثروت گیلانی کا سوشل میڈیا صارفین کو سخت پیغام

شوبز سٹار ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ آن لائن منفی مہم فنکاروں کو شدید …

Show Buttons
Hide Buttons