تازہ ترین

روس اور ایران ایک ’مکمل دفاعی شراکت داری‘ کی طرف بڑھ رہے ہیں: امریکا

امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور ایران ایک ’مکمل دفاعی شراکت داری‘ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور ایران یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد کے لیے ایک مکمل دفاعی شراکت داری کی تیاری کر رہے ہیں۔ اسکائی نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ روس ایک بار پھر ایران کی طرف دیکھ رہا ہے تاکہ روسی فوج کو ڈرونز اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل فراہم کیے جائیں۔ جان کربی کا یہ بیان نیٹو کے سربراہ کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد آیا ہے، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا تھا کہ یوکرین میں لڑائی قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور یہ جنگ روس اور نیٹو کی براہ راست جنگ بن سکتی ہے۔

کربی نے کہا ’’امریکا کو ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ دونوں ممالک مہلک ڈرون کی مشترکہ پیداوار پر غور کر رہے ہیں، روس ایران کو ایک بے مثال فوجی اور تکنیکی مدد کی پیش کش کر رہا ہے جس سے ان کے تعلقات ایک مکمل دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہو جائیں گے۔‘‘ انھوں نے کہا ’’میرے خیال میں ہمارے لیے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ شراکت داری نہ صرف یوکرین بلکہ خطے میں ایران کے پڑوسیوں کے لیے بھیخطرہ ہے۔‘‘

واضح رہے کہ روس کو نئے ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب ایران نے موسم گرما میں روس کو سینکڑوں حملہ آور ڈرون فروخت کیے تھے۔ بائیڈن انتظامیہ نے حال ہی میں ایرانی فرموں اور اداروں کے خلاف پابندیاں لگائی ہیں جو روس کو ایرانی ڈرونز کی منتقلی میں ملوث ہیں، اکتوبر میں، وائٹ ہاؤس نے تہران پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ وہ یوکرین کے پاور اسٹیشنوں اور دیگر اہم انفرا اسٹرکچرز پر روسی ڈرون حملوں میں مدد کے لیے ایرانی فوجیوں کو کریمیا بھیج رہا ہے۔

جان کربی نے کہا کہ روس اور ایران کے مابین تعاون دو طرفہ ہے، اور تشویش یہ ہے کہ روس ایران کو فضائی دفاعی نظام سمیت جدید فوجی پرزے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

چین میں ای-کامرس کا جامع ترقی میں کردار: جانیئے تجزیہ کار کی زبانی

Show Buttons
Hide Buttons