روس اور یوکرین تنازعہ کے لیے بھیجے جانے والے ہتھیار افریقہ میں فروخت ہو رہے ہیں، صدر نائیجیریا

نائیجیریا کی میڈیا رپورٹس کے مطابق 29 نومبر کو نائیجیریا کے صدر محمد و بوہاری نے بیان دیا ہے کہ روس اور یوکرین تنازعہ کے لیے بھیجے جانے والے ہتھیار “بلیک مارکیٹ” کے لین دین کے ذریعے افریقہ میں پہنچ رہے ہیں۔

بوہاری نےکہا یہ ہتھیار افریقہ کے ساحلی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی طاقت کوہوا دےرہے ہیں اور خطے کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ متعلقہ ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افریقہ تک ان ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تعاون کو تیز کریں۔

روس یوکرین تنازعہ شروع ہونے کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک نے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔اس تنازعہ کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ اسلحے کی بلیک مارکیٹ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغرب کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے 70 فیصد ہتھیار درحقیقت فرنٹ لائن تک نہیں پہنچتے۔

“رشیا ٹوڈے” ٹی وی اسٹیشن کی ویب سائٹ کے مطابق، “ڈارک ویب” پر ایک بلیک مارکیٹ سامنے آئی ہے، جو یوکرین کو مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کی “چور بازار” میں فروخت میں مہارت رکھتی ہے۔ روسی صدرولادیمیر پوٹن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے گئے ہتھیار بلیک مارکیٹ میں آ چکے ہیں، اگر یہ ہتھیار مجرموں کے ہاتھ لگ گئے تو اس سے بہت سنگین چیلنجز سامنے آئیں گے۔

روسی وزارت خارجہ نے نشاندہی کی ہے کہ نیٹو ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی “آگ سے کھیلنا” ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ خبر پڑھیئے

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

Show Buttons
Hide Buttons