برطانیہ میں افراطِ زر کے باعث متعدد صنعتوں میں ہڑتال

برطانیہ میں افراطِ زر کے باعث متعدد صنعتوں میں ہڑتال

چوبیس تاریخ کو برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں افراط زر میں اضافے کے باعث مزدوروں کی اصل آمدنی میں کمی، پنشن میں کمی، کام کے حالات میں ابتری اور دیگر مسائل کی وجہ سے برطانیہ میں کئی صنعتوں میں کام کرنے والے کارکن مسلسل ہڑتال پر ہیں۔

ان میں سے 115,000 رائل میل ملازمین 24 تاریخ سے شروع ہونے والی 48 گھنٹوں پر مشتمل ہڑتال پر چلے گئے۔ کارکن نومبر کے آخر اور دسمبر کے آغاز میں ہڑتال کی کارروائی کے ایک نئے دور کے آغاز کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی دن برطانیہ کی 150 یونیورسٹیوں کے تقریباً 70 ہزار اساتذہ نے بھی تین روزہ ہڑتال کا آغاز کیا جس سے تقریباً 25 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔ اس سے علاوہ اسکاٹ لینڈ میں سیکنڈری اسکول، پرائمری اسکول اور کنڈرگارٹن کے کچھ اساتذہ بھی ایک دن کی ہڑتال پر چلے گئے۔

برٹش نیشنل یونین آف ریل، میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ ورکرز نے 22 تاریخ کو کہا کہ برٹش ریل نیٹ ورک اور چودہ ٹرین آپریٹنگ کمپنیوں کے 40 ہزار سے زائد ملازمین دسمبر اور اگلے سال جنوری میں 48 گھنٹے کی ہڑتال کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے …

Show Buttons
Hide Buttons