ارلی وارننگ سسٹم منصوبہ بندی کیلئے ناگزیر ہے، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ارلی وارننگ سسٹم (ای ڈبلیو ایس) پسماندہ اور موسمیاتی شدت سے متاثر ممالک کیلئے موافقت اور لچک کی منصوبہ بندی کیلئے لازمی بن گیا ہے-

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ارلی وارننگ سسٹم (ای ڈبلیو ایس) پسماندہ اور موسمیاتی شدت سے متاثر ممالک کیلئے موافقت اور لچک کی منصوبہ بندی کیلئے لازمی بن گیا ہے، یہ نظام پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کیلئے ایک اہم مواصلاتی نظام کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ انہیں قدرتی آفات سے پیشگی خبردار کیا جا سکے، یہ نظام نگرانی اور پیشنگوئی کی درستگی، آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام سے نمٹنے کیلئے اعداد و شمار کے ذریعے تیز رفتار اور مناسب ردعمل کی منصوبہ بندی کیلئے کافی وقت مہیا کرتا ہے، جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال اور ارلی وارننگ چین آفات کے خطرہ سے متعلق علم، خطرے کا پتہ لگانے، اس سے بچائو اور جلد عمل کی تیاری کے چار عناصر کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔

وزیراعظم نے ارلی وارننگ نظام کی پاکستان میں کامیابی کے حوالہ سے بتایا کہ اس نظام کی وجہ سے اس سال ملک میں گرمی کی طویل لہر کی وجہ سے ششپر گلیشیئر میں شگاف پڑنے سے ہزاروں جانیں بچ گئیں، اس گلیشیئر کے نیچے ایک غیر مستحکم جھیل سے ہر سال وادی ہنزہ میں سیلاب آتا ہے تاہم ارلی وارننگ سسٹم سے لوگوں کو انخلاء کا وقت مل جاتا ہے، موسمیاتی تبدیلی 2022ء کے اثرات کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ قراقرم ہائی وے پر حسن آباد گائوں میں 6 مکانات، زرعی اراضی، 2 ہائیدرو پاور پراجیکٹ اور باغات تباہ ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، یہاں ارلی وارننگ سسٹم اس گلیشیئر کی براہ راست نگرانی کرتا ہے اور ہر روز جھیل میں پانی کی آمد اور اخراج کا تخمینہ لگاتا ہے، اس نظام کی نگرانی وفاقی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کرتی ہیں، یہ سسٹم وہاں زیادہ کامیاب ہوئے جہاں کمیونٹیز کیلئے تربیت اور آگاہی کے سیشنز اور مشقوں کا باربار اہتمام کیا گیا، خودکار موسمی نظام اور کمیونٹی کی شمولیت کی وجہ سے گلیشیئر کی نگرانی پاکستان کیلئے ایک کامیابی کی کہانی بنی ہے، اس نظام کو دیگر علاقوں اور وادیوں میں بھی لگایا جائے گا، یہ پراجیکٹ وزارت اور یو این ڈی پی کا مشترکہ منصوبہ ہے، یہ پاکستان میں گرین کلائمیٹ فنڈ کا پہلا منصوبہ ہے، اس منصوبہ کے تحت 16 گلگت بلتستان اور 8 کے پی میں خودکار موسمی نظام لگائے گئے ہیں، اس نظام کے تحت آبپاشی کے راستے اور ڈھلوان میں استحکام کیلئے شجرکاری بھی شامل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ارلی وارننگ سسٹم آفات کے خطرات میں کمی کا ایک اہم جزو ہے جو جانی نقصان کو روکنے کے ساتھ ساتھ قدرتی خطرات کے معاشی اثرات کو کم کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینڈائی فریم ورک برائے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن 2015-30ء نئے سیلاب کو روکنے اور موجودہ آفات کے خطرات کو کم کرنے کیلئے تباہی کے خطرے کو سمجھنے، آفات کے خطر ے سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹر رسک گورننس کو مضبوط بنانے، تباہی میں کمی کیلئے سرمایہ کاری کرنے اور مؤثر ردعمل کیلئے تیاری اور بحالی و تعمیرنو کے چار نکات پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ارلی وارننگ سسٹم سیلاب اور شدید موسمی واقعات میں پانی اور صفائی کے نظام کے ساتھ ساتھ صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور اس سے متعلق خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، ارلی وارننگ سسٹم موبائل کمیونیکیشن نیٹ ورک کے ساتھ براہ راست جڑا ہے جو فوری ردعمل کے فریم ورک، منصوبوں اور اقدامات کو متحرک کرنے میں مؤثر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کے کچھ جنوبی شہروں میں اس سال 53 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، ہم کرہ راض کے گرم ترین مقامات کے میزبان بن گئے جو جنگل میں آگ کا سبب بنتے ہیں، اس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسوں کا ایک فیصد سے بھی کم اخراج کرتا ہے ہماری آب و ہوا کا خطرہ ممنوعہ حد تک زیادہ ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ متاثر 10 ممالک میں شامل ہے، اس سال موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا میں آنے والی صدی کے سب زیادہ تباہ کن سیلابوں نے پاکستان کو بری طرح متاثر کیا ہے، اس مون سون میں پاکستان میں ہم نے جو دیکھا وہ ہمارے مستقبل کیلئے ایک سنگین تصویر کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں کہ متاثرین کی ضروریات پوری کرنا کسی ایک ملک کی دسترس میں نہیں، خاص طور پر جس ملک کی جی ڈی پی پہلے سے ہی 9.1 فیصد موسمیاتی نقصانات برداشت کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو ہمیں 10 سال پیچھے لے گیا ہے، بنیادی ڈھانچہ، سکولوں، ہسپتالوں سمیت ہر چیز کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری نقد امداد کیلئے حکومت پاکستان نے اپنے وسائل سے 66 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کر دی ہے، یہ ادائیگی بی آئی ایس پی کے ذریعے 26 لاکھ سے زائد لوگوں کو کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے سیلاب سے متاثرہ آبادی کیلئے موسمیاتی لچک کے منصوبوں کیلئے مختص 15 کروڑ ڈالر کا دوبارہ استعمال کیا جبکہ پاکستان ہائیڈرو میٹ و کلائمیٹ سروسز پراجیکٹ کے 4 کروڑ  80 لاکھ ڈالر کے فنڈ اسی مقصد کیلئے استعمال کئے گئے جو ایم ای ٹی آفس کی تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانے اور اپ گریڈ کرنے کیلئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ارلی وارننگ سسٹم نیشنل ڈیزاسٹر رسک کی منصوبہ بندی کا ایک لازمی حصہ ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اسکریبل چیمپئن شپ: پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو بھارت میں شکست

پاکستان کے حشام ہادی خان نے بھارت کو بھارت میں شکست دے کر ایشیا کپ …

Show Buttons
Hide Buttons