اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہے، تھنک ایشیا فورم

اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہے، تھنک ایشیا فورم

2 نومبر کو انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری چائنا اینڈ دی ورلڈ، چھنگہوا یونیورسٹی چائنا فورم اور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ایسٹ ایشین انسٹی ٹیوٹ کی مشترکہ میزبانی میں “تھنک ایشیا” فورم آن لائن اور آف لائن طریقے سے سنگاپور میں منعقد ہوا۔

فورم میں چین، سنگاپور، جاپان، بھارت، تھائی لینڈ، فلپائن، پاکستان، قازقستان اور دیگر ایشیائی ممالک کے 40 سے زائد تھنک ٹینک ماہرین اور اسکالرز نے “نئے دور میں ایشیا اور دنیا ” کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ موجودہ صدی ایشیا کی صدی ہے، اور ایشیا کی ترقی کا انحصار چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” جیسے اقدامات اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر پر ہے۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایشین اسٹڈیز کے ممتاز ماہر تعلیم اور اقوام متحدہ میں سنگاپور کے سابق مستقل نمائندے ما کیشوو نے کہا کہ ایشیا کو مغرب پر انحصار کرنے کی اپنی نفسیاتی سوچ کو ترک کرنا ہوگا۔ مغرب پر انحصار اور مغرب کی اندھی تقلید کی سوچ جدید ایشیا کی ترقی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ چین کی طرف سے پیش کردہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کا تصور ایشیا اور پوری دنیا کی مشترکہ ترقی کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کی سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین اور پاک چائنا سوسائٹی کے صدر مشاہد حسین  سید نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری، “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بہت مدد ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 21ویں صدی “ایشیا کی صدی” ہے اور ایشیا کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کے ذریعے رابطے اور تعاون کی ترقی ہے۔ “

یہ خبر پڑھیئے

چین اور عرب ممالک کے درمیان "بیلٹ اینڈ روڈ" تعاون میں نمایاں پیش رفت

چین اور عرب ممالک کے درمیان “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون میں نمایاں پیش رفت

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے 8 تاریخ کو  یومیہ پریس کانفرنس میں …

Show Buttons
Hide Buttons