چینی وزیراعظم کی زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم کا 21واں اجلاس

چین کے وزیراعظم لی کھہ چھیانگ نے یکم نومبر کو بیجنگ میں ویڈیو لنک کے ذریعے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کے 21ویں اجلاس کی صدارت کی۔

لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ رواں سال ستمبر میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم  کےسمرقند سمٹ میں شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کوفروغ دینے پر اتفاق رائے ہوا۔ چین کے صدر شی جن پھنگ امن، استحکام، خوشحالی اور ایک خوبصورت وطن کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ چین تمام فریقین کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد، باہمی فائدہ مند تعاون اور دوستانہ تبادلوں کو گہرا کرنے کا خواہاں ہے اور تمام ممالک کے عوام کے فائدے کے لئے “شنگھائی اسپرٹ” کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ لی کھہ چھیانگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے پانچ تجاویز بھی پیش کیں۔ سب سے پہلے قانون کے نفاذ میں سیکورٹی تعاون کو بہتر کیا جائے، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جائے اور ترقی کے لئے ایک اچھا ماحول پیدا کیا جائے۔

دوسرا یہ کہ تجارت اور سرمایہ کاری کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے اور علاقائی اقتصادی بحالی کو فروغ دیا جائے۔ تیسرا، رابطوں کو مضبوط بنانا، علاقائی  ترقی حاصل کرنا اور صنعتی شعبے میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ چوتھا، خوراک اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کی سطح کو بہتر بنانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پانچواں، عوام  کے درمیان قریبی تبادلے اور لوگوں کےدرمیان رابطے کو بڑھایا جائے۔

لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل منعقد ہونے والی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20ویں قومی کانگریس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اصلاحات اور کھلے پن کی بنیادی قومی پالیسی پر کاربند رہ کر پرامن ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا اور عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے …

Show Buttons
Hide Buttons