چین کا نئی نسل کا ‘مصنوعی سورج’ پلازمہ سائنس میں نئی پیشرفت

چین کی جانب سے تیار کئے گئے مصنوعی سورج نے پلازمہ کرنٹ کی مقدار 10 لاکھ ایمپیئر سے تجاوز کرنے کے علاوہ کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن ڈیوائس کی کارکردگی کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ 

چائنہ نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن کے مطابق پلازمہ کرنٹ ٹوکاماک نامی فیوژن ری ایکٹر کا بنیادی پیرامیٹر ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری فیوژن کیلئے 10 لاکھ ایمپیئر کا پلازمہ کرنٹ ضروری ہے۔

سی این این سی  سے منسلک ساؤتھ ویسٹرن انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے زیر انتظام سینٹر فار فیوژن سائنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور مصنوعی سورج HL-2M تجربے کے سربراہ چُونگ وُولو نےسائنس و ٹیکنالوجی ڈیلی کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا ہے کہ یہ پیشرفت چین میں نیوکلیئر فیوژن کی تحقیق اور ترقی میں فیوژن اگنیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے حجم اور پیرامیٹرز کے حامل مصنوعی سورج  ٹوکاماک HL-2M سے پہلی بار پلازمہ کا اخراج دسمبر 2020ء میں یقینی بنایا گیا۔

سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کے مرکز کے اندر رونماء ہونیوالے جوہری فیوژن کی توانائی سے حرارت اور روشنی دونوں تشکیل پاتی ہے۔ فیوژن انرجی کو اس کے وافر وسائل اور روایتی حفاظت کی وجہ سے بنی نوع انسان کیلئے ایک مثالی حتمی توانائی تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر سائنسدان گزشتہ کئی دہائیوں سے کنٹرول شدہ نیوکلیئر فیوژن ری ایکشن کے حصول کیلئے سرگرم ہیں اور  تجرباتی فیوژن کیلئے تیار کئے گئے آلے کو  مصنوعی سورج کہا جاتا ہے۔

چین کے مشرقی صوبہ آنہوئی  کے شہر حہ فئی میں  تجرباتی ایڈوانسڈ سپر کنڈکٹنگ ٹوکامک  یا چینی مصنوعی سورج نے 2016ء میں کام کا آغاز کیا۔ چینی خبر رساں ادارہ شنہوا کے مطابق اس ری ایکٹر کے تحت دسمبر 2021ء میں 1,056 سیکنڈ تک مسلسل بلند ترین درجہ حرارت سے پلازمہ کے اخراج کا عمل کامیابی سے مکمل کیا، جو اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے طویل دورانیہ تھا۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازمہ فزکس کے مطابق اس کامیابی کا حتمی مقصد نیوکلیئر فیوژن تخلیق کرنا ہے جس میں ماحول دوست توانائی کا ایک مستحکم سلسلہ فراہم کرنے کیلئے سمندر میں موجود ڈیوٹیریم کا استعمال کیا جائے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

Show Buttons
Hide Buttons