پاکستان – روس زراعت میں تجارتی تعاون بڑھانے سے باہمی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وفاقی وزیر بشیر چیمہ سے روسی نمائندےکی گفتگو

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق طارق بشیر چیمہ سے روسی وفد نے ملاقات کی۔بدھ کو ہونے والی ملاقات میں دونوں اطراف نے زرعی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں پروڈنٹ نمائندے یوسف آصف اور حامد علی، ایگریکلچر اتاشی الیکسی کدریاوٹسیف اور اتاشی روسی ایمبیسی الیگزینڈر شامل تھے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے زرعی شعبے کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاری کا حتمی تخمینہ کا ابھی انتظار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری بحالی کے مرحلے میں پاکستان کی مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت متاثرہ کسان برادری کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

روسی نمائندے یوسف آصف نے کہا کہ پاکستان اور روس زراعت میں تجارتی تعاون بڑھانے سے باہمی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس گندم کا سب سے بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے اور گندم کی مقامی طلب کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی چاول اچھے معیار کے ہیں اور روس پاکستان سے چاول کی درآمد بڑھانے کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان میں چاول کے مجاز برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان سے آلو درآمد کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔

انہوں نے بتایا کہ روس آلو کا بڑا درآمد کنندہ ہے۔روسی وفد نے پاکستان کے لئے گندم کی درآمد کرنے کی پیشکش کی تاکہ فوڈ سیکیورٹی کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے بارٹر ٹریڈ کی صورت میں فوڈ باسکٹ کموڈٹیز کا تبادلہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ روس کے ایگریکلچر اتاشی الیکسی کدریاوٹسیف نے امید ظاہر کی کہ زراعت میں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ خبر پڑھیئے

ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا بل منظور کر لیا

27 نومبر کو ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کا …

Show Buttons
Hide Buttons