تازہ ترین
میڈیا بھی کشمیریوں کی عظیم جدوجہد میں اپنا مزید فعال کردار ادا کرے، وزیراعظم کے مشیر قمر الزمان کائرہ

میڈیا بھی کشمیریوں کی عظیم جدوجہد میں اپنا مزید فعال کردار ادا کرے، وزیراعظم کے مشیر قمر الزمان کائرہ

وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر ،گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پاکستان، کشمیر اور دنیا بھر میں (آج)27 اکتوبر یوم سیاہ بھر پور انداز سے منایا جائے گا ،دنیا کے سامنے ہندوستان کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کر تے رہیں گے ، ہندوستان نے اپنی فوج 80 ہزار سے 10 لاکھ کردی ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں ایک پائی کی کمی نہیں آسکی، کشمیری اپنے حق خوداردیت سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ، بلاول بھٹو کی کاوشوں سے مسئلہ کشمیر کو جرمنی نے سپورٹ کیا ہے جو فعال سفارتکاری کی علامت ہے ۔

وہ بدھ کو پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید باسط احمد بخاری ، اے پی ایچ سی کے رہنمائوں غلام محمد صفی ، محمود احمد ساغر ،سید فیض نقشبدی اور شیخ متین کے ہمراہ پی آئی ڈی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

وزیراعظم کے مشیر قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ 27 اکتوبر وہ دن ہے جو پاکستان اور کشمیر میں سیا ہ دن کے طور پر دیکھا او رمنایا جاتا ہے، اس دن ہندوستان نے کشمیر کے اندر اپنے جبرو استبداد ، ظلم و جبر کا آغاز کیا تھا، ہندوستان نے اپنی 80 ہزار فوج کشمیر میں اتاری تھی ، اس دن سے پہلے کشمیریوں اور وہاں کی قیادت نے پاکستان کے ساتھ الحاق پر دستخط کر دیئے تھے، اس کے بعد ہندوستان نے مہاراجہ سے اپنے حق میں ایک دستخط کرائے جسے دنیا اور کشمیری آج تک نہیں مان رہے ۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ہندوستان کا یہ عمل مسترد کیا اور کشمیریوں کی بات کو تسلیم کیا ۔مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں نے ہندوستانی فوج کے ہر ہتھکنڈے کو شکست دی ۔ انہوں نے کہا کہ تب سے اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں ،ہندوستان نے حراست میں قتل ،عدالتی قتل ، خواتین اور بچوں کو شہید کیا ہے، انہی قربانیوں کی بدولت آج دنیا میں مسئلہ کشمیر اسی طرح عیاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک اور پاکستان کا ان کے ساتھ تعاون اور امداد اسی طرح جاری رہے گی ، یہ کشمیر کا نہیں انسانیت کا مقدمہ ہے ، دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی حکومت ہو لیکن کبھی بھی کسی نے مسئلہ کشمیر پر ضرب نہیں آنے دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی فوج 80 ہزار سے 10 لاکھ کردی ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں ایک پائی کی کمی نہیں آسکی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو نہ صرف دنیا کے سامنے رکھنا ہے بلکہ پاکستان کے اندر بھی نئی نسلوں کو اس سے آگاہ کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 5 اگست سے قبل بھی ایسے کئی حملے کیے جن کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنا نا ہے ،کبھی حلقہ بندیوں کے ذریعہ کشمیریوں کو تنگ کیا جاتا ہے تو کبھی ڈومیسائل کے ذریعے باہر کے لوگوں کو بسایا جاتا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں برائے نام حکومتیں آتیں رہیں لیکن کسی نے کشمیریوں کے لئے کام نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کے گذشتہ روز کے اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کا جذبہ بھی قابل دید تھا ۔

قمر الزمان قائرہ نے کہا کہ جب سے اتحادی حکومت آئی ہے ہمارے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے جرمنی سمیت ہر دورے میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت بارے میں واضح موقف لیا ہے ، بلاول بھٹو کی کاوشوں سے مسئلہ کشمیر کو جرمنی نے سپورٹ کیا ہے جو فعال سفارتکاری کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی بھی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں کی عظیم جدوجہد میں اپنا مزید فعال کردار ادا کریں ۔

پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید باسط احمد بخاری د نے کہا کہ 27 اکتوبر ایسا دن ہے جو دنیا میں ہونے والے مظالم میں سب سے بڑا ظلم کا درجہ اختیار کر گیا ہے ، مسئلہ کشمیر سے متعلق ہرپاکستانی ادارے نے نہ صرف پاکستان بلکہ اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر آواز بلند کی ہے ،پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جلد ایک سب کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں جس میں کشمیر ،گلگت بلستان امور، وزارت خارجہ ، قومی سلامتی ڈویژن، دفاع اور وزارت داخلہ کے نمائندے اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے ،یہ کمیٹی مسئلہ کشمیر کے لئے جدوجہد کرنے والے اقدامات کو یکجا اور مربوط بنائی گی، آئندہ جو بھی لائحہ عمل بنایا جائے گا وہ اتفاق رائے سے ہوگا ،اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا میں یہ کمیٹی کشمیر کاز کو اجاگر کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ ناامیدی کفر ہے، انشااللہ وہ وقت ضرور آئے گا جب کشمیریوں کو ان کا حق ملے گا ۔

یہ کمیٹی جلد اپنا کام شروع کر دے گی ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے راہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ 27 اکتوبر کا دن یو م سیاہ کے طور پر مناتے ہیں ، آج ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو پاکستان کی جانب سے تعاون کا واضح پیغا م دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک کھیل رہا ہے جس کا مقصد کشمیر کو مقبوضہ علاقہ نہ سمجھنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لئے جہاں کشمیری اپنا لہو دے رہے ہیں وہیں مسئلہ کشمیر کو بھی پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت حکومت پاکستان کی جانب سے پارلیمانی کشمیری کمیٹی کی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کشمیر سے متعلق واضح موقف رکھتی ہے اس سے ہماری جدوجہد میں مزید توانائی ملے گی ۔اے پی ایچ سی پاکستان کے کنوینئر محمود احمد ساغر نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر کی جو صورتحال بنی ہے وہ دنیا جانتی ہے ،مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے ، وہاں انٹرنیٹ بند ہے ۔

یہ خبر پڑھیئے

بیجنگ سرمائی اولمپک اور پیرالمپک سرمائی کھیلوں کے بعد کی ہیریٹیج رپورٹ اور کھیلوں کے بعد پائیداری ترقی کی رپورٹ جاری کردی گئی

4 فروری کو2022  بیجنگ سرمائی اولمپک اور پیرالمپک سرمائی کھیلوں کی پہلی سالگرہ ہوگی۔یکم تاریخ کو …

Show Buttons
Hide Buttons