تازہ ترین
چین کی پالیسی اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی ہیں، ڈائریکٹر پاک-چائنہ سٹڈی سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز ڈاکٹر طلعت شبیر

چین کی پالیسی اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی ہیں، ڈائریکٹر پاک-چائنہ سٹڈی سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز ڈاکٹر طلعت شبیر

چین صدر شی چن پھنگ کا سی پی سی کی 20ویں قومی کانگریس سے خطاب خصوصی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ چینی عوام ملک کی معاشی ترقی کے استحکام سے متعلق پُر امید ہیں، جس پر شی چن پھنگ نے بھرپور روشنی ڈالی۔

اسکے علاوہ انہوں نے اپنی تقریر میں علاقائی اور عالمی نظریات کے تحت اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ چین دیگر ممالک کے ساتھ روابط میں مزید بہتری لیکر آئے گا۔ چینی صدر نے اپنے خطاب میں چین کی معاشی ترقی اور علاقائی روابط میں اضافے کا ذکر کیا۔ شی چن پھنگ ایک متحرک راہنماء ہیں جو چین اور عالمی برادری کیلئے نہ صرف مثبت نظریات کے حامل ہیں بلکہ گزشتہ 10 سال کے دوران ان پر ثابت قدم بھی رہے ہیں، جو چین کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔

شی چن پھنگ کے تمام اندرونی اور بیرونی پالیسیز، جن میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سمیت دیگر حالیہ اقدامات  کے حوالے سے ان کا وژن اور فعال کردار دنیا کے سامنے ہے۔ ان کا تیسری بار چینی صدر کے طور پر انتخاب ان کی 10 سالہ کارکردگی اور کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

چین کی پالیسیوں کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جائے تو وہاں کی حکومت سب سے زیادہ معیشت پر توجہ دیتی ہے۔ شی چن پھنگ اور دیگر چینی راہنماؤں کی جانب سے گزشتہ 10 سال کے  دوران بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹواور عالمی ترقیاتی اقدام سمیت  عالمی روابط کے دیگر تمام اقدامات کے تحت بنیادی توجہ معیشت پر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے ترقی پذیر ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ معیشت میں بہتری کو اولین ترجیح دی جائے اور دوطرفہ روابط میں اضافے سے تجارت اور کاروبار کو فروغ دیا جائے، جسے خوشحالی کا پیغام قرار دیا جارہا ہے۔

چینی صدر کا یہ پیغام نہ صرف ترقی پذیر ممالک کیلئے اہم ہے بلکہ انہوں نے بڑی طاقتوں پر بھی زور دیا ہے کہ عالمی سطح پر قیامِ امن کیلئے سٹریٹجک ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی بھی بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے۔

چین نے اپنے عوام کی حالت بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے اور عالمی تاریخ میں چین شاید ایسا واحد ملک ہے جو علی الاعلان کہہ چکا ہے کہ اس نے کامیابی سے غربت کا خاتمہ کردیا ہے۔ یقیناً 80 کروڑ افراد کو خطِ غربت سے باہر نکالنا ایک ایک بہت بڑی کامیابی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شی چن پھنگ نے عوام کی حالتِ زار بہتر بنانے کیلئے جو پالیسیاں تشکیل دیں ان کے ثمرات چین کے ہر علاقے میں نظر آتے ہیں۔

اس حوالے سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک کی مثال دی جاسکتی ہے، کیونکہ چینی قیادت کا خیال ہے کہ چین کا مشرقی حصہ ترقی کر چکا ہے جس کے بعد مغربی علاقوں کو ترقی دینے کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان دونوں منصوبوں کو اگر چینی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو ان کا بنیادی مقصد چین کے مغربی حصے کی ترقی اور معیشت میں بہتری لانا ہے، تاکہ وہاں لوگوں کے حالاتِ زندگی میں بہتری آئے، جو ترقی میں چین کے مشرقی علاقوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سال کے دوران سی پی سی، شی چن پھنگ اور دیگر راہنماؤں کی پالیسیوں پر نگاہ ڈالی جائے تو ان کی توجہ کا بنیادی مرکز عوامی ترقی رہا، جس کے اثرات پوری دنیا دیکھ سکتی ہے۔

شی چن پھنگ نے ہمیشہ امن کا پرچار کیا، جبکہ عالمی سطح پر امن کا قیام چین سمیت تمام عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن دنیا میں جس طرح مقابلے، ذاتی تحفظ اور مخالف ممالک کو تنہاء کرنے کا رجحان موجود ہے، جس کے نتیجے میں مختلف خطے آج بھی جنگ کی لپیٹ میں نظر آتے ہیں۔

ایسے حالات میں چینی صدر شی چن پھنگ کی جانب سے امن، معاشی ترقی، دوطرفہ تجارت اور باہمی روابط میں بہتری لانے کا پیغام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جب دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اس امر کا ادراک کرلیں کہ عالمی سطح پر امن کا قیام ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر دنیا کی خوشحالی اور معاشی ترقی کے ثمرات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ایسے میں چینی صدر کی جانب سے 2027ء تک خطے میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے پیپلز لبریشن آرمی کی ترقی سے متعلق متوازن بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین معیشت اور دفاع کو مساوی اہمیت دیتا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز، پاکستان نے 181 رنز بنالیے

راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز، پاکستان نے 181 رنز بنالیے

راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں 657 رنز کے …

Show Buttons
Hide Buttons