تازہ ترین

پاکستان کا اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے کا مطالبہ

پاکستان نے “عالمی وبائی بیماری” ڈس انفارمیشن سے متنبہ کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا ہے، جو نفرت انگیز تقریر کو ہوا دیتی ہے۔

پاکستانی مندوب، مریم شیخ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوتھے اجلاس کو بتایا، “یورپی یونین ڈس انفو لیب کے اہم انکشافات اور اقوام متحدہ کے اداروں، اس کے رکن ممالک، بنیادی اداروں اور بنیادی اقدار کو نشانہ بنانے کے جامع شواہد کے بعد سائبر مداخلت کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے کی کارروائیاں بند نہیں ہوئیں۔” کمیٹی، جو خصوصی سیاسی اور نوآبادیاتی معاملات سے نمٹتی ہے کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی پریس کونسلر مریم شیخ برسلز میں قائم ایک آزاد این جی او ای یو ڈس انفو لیب کی تحقیقاتی رپورٹس کا واضح طور پر حوالہ دے رہی تھیں، جس میں حال ہی میں پاکستان کے خلاف بھارت کی 15 سالہ پرانی غلط معلومات کی مہم کا پتہ لگایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام ایسی مہمات کا نشانہ بنے ہیں جن کی اہم تشویش مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں ریاستی سرپرستی میں غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔”اکثر قابض افواج لوگوں کی آواز کو دبانے کے لیے لاک ڈائون، مکمل معلوماتی بلیک آئوٹ، سنسر شپ اور نگرانی کے ساتھ خاموشی مسلط کر دیتی ہیں جبکہ قید، مار پیٹ، تذلیل، ایذا رسانی اور یہاں تک کہ قتل، انسانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں،” معمول بن جاتی ہیں پاکستانی مندوبین نیانفارمیشن پر بحث میں کہاکہ پاکستان نے ایسے غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں اور اس سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف حملوں اور تشدد پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ مریم شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان قومی ذرائع سمیت تمام ممکنہ ذرائع سے اور اقوام متحدہ کے تحت رکن ممالک اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے والے وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔”

پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ، آفت کے پہلے جواب دہندگان میں سے، موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت سے بحرانوں پر روشنی ڈالتا رہے گا۔ “پچھلی دو دہائیوں میں، شدید موسمی واقعات کے بار بار آنے والے شدید موسمیاتی واقعات نے جان و مال دونوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔”پاکستانی مندوب نے دنیا کے کئی حصوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک اور تشدد کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی اور عالمی بلاغ کے شعبے پر زور دیا کہ وہ اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامو فوبیا ایک حقیقت ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

چین میں ای-کامرس کا جامع ترقی میں کردار: جانیئے تجزیہ کار کی زبانی

Show Buttons
Hide Buttons