“سرسبز پہاڑ ہی سونے کے پہاڑ اور صاف شفاف دریا چاندی کے دریا ہیں”

چین کے صوبہ زےجیانگ میں یو چھون نامی ایک چھوٹا سا گاؤں ہےاور پچھلی صدی کے نوے کے عشرےمیں یہاں پہاڑوں میں موجود معدنیات کی وجہ سے سیمنٹ سازی کے کارخاںے چلتے  تھے۔ اس وجہ سے لوگوں نے خوب  پیسے کمائے، لیکن یہاں کی ندیاں آلودہ ہو گئیں۔

سال دو ہزار تین میں جناب شی جن پھنگ جو اس وقت کےصوبہ زے جیانگ کے سربراہ تھے نے پورے صوبے میں حیاتیاتی تحفظ کا آغاز کیا اور بعد میں یو چھون گاؤں میں موجود تین کانوں اور سیمنٹ سازی کے  ایک کارخانے کو بند کردیا گیا۔لیکن لوگوں کی آمدنی کہاں سےآئے یہ ایک مسئلہ بن گیا۔ سال دوہزار پانچ میں شی صاحب نےیہاں کادورہ کیا اورمقامی کسانوں اور عہدہ داروں سے یہاں کی معلومات لیں۔

اس گاؤں سے واپس جانے کے بعد انہوں نے صوبہ زے جیانگ کے ایک اہم اخبار میں اپنا تبصرہ  ایک مضمون کی شکل میں شائع کیا جس کا عنوان ہے “سرسبز پہاڑ سونے کے پہاڑ اور صاف شفاف دریا چاندی کے دریا ہیں”۔ اپنے مضمون میں انہوں نے حیاتیاتی برتری کو حیاتیاتی معیشت میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔ان کے خیال میں حیاتیاتی وسائل قیمتی ترین وسائل ہیں۔اس لیے اقتصادی ترقی کے طریقہ کار کو پائیدار بنانا بہت ضروری ہوتا ہے۔

سال دو ہزار بیس میں جب جناب شی جن پھنگ نے بطور چینی صدر یو چھون کا دوبارہ دورہ کیا، تو اس وقت یو چھون گاؤں ایک دلکش اور صاف شفاف گاؤں بن چکا تھا۔ ماحول کی بہتری کے ساتھ ساتھ لوگوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا اور یہاں بزرگوں کا جسمانی تحفظ بھی بہتر طور پر کیا جا رہا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

اسلام آباد کی پرُ رونق فضاء میں چینی نئے سال کی خوشیاں

Show Buttons
Hide Buttons