امریکہ کو یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کے تسلط پسندانہ عمل کو روکنا چاہیے، چینی وزارت خارجہ

امریکہ کو یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کے تسلط پسندانہ عمل کو روکنا چاہیے، چینی وزارت خارجہ

26 ستمبر کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے پریس کانفرنس کی میزبانی کی۔

ایک رپورٹر نے پوچھا کہ حال ہی میں ایران، زمبابوے اور بولیویا کے صدر اور کیوبا کے وزیر خارجہ سمیت دیگر رہنماوں نے اقوام متحدہ کی 77ویں جنرل اسمبلی کے عام مباحثے میں اپنی تقریروں میں امریکہ کی طرف سے عائد کی گئی یکطرفہ پابندیوں کی مذمت کی۔ اس حوالے سے چین کا تبصرہ کیا ہے؟

وانگ وین بن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے متعلقہ رپورٹ پڑھی ہے۔ امریکہ واقعی بے جا پابندیاں عائد کرنے والی سپر پاور ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2000 سے 2021 تک امریکہ کی طرف سے دوسرے ممالک پر عائد کی گئی پابندیوں میں 933 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اب تک، امریکہ نے دنیا کے تقریباً 40 ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے دنیا کی تقریباً نصف آبادی متاثر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے سنگین انسانی آفات کا سامنا ہے۔ امریکی میڈیا نے نشاندہی کی کہ پابندیاں امریکی خارجہ پالیسی کا اولین ہتھیار بن چکی ہیں۔

وانگ وین بن نے اس بات پر زور دیا کہ اس مشکل دور میں تصادم کے بجائے تعاون کیا جانا چاہئیے، یکطرفہ کی بجائے کثیرالجہتی ہونی چاہئیے اور تقسیم کے بجائے اتحاد ہونا چاہئیے۔ یہ بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق ہے۔ امریکہ کو بین الاقوامی برادری کی منصفانہ آوازوں کو غور سے سننا چاہیے، یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کے تسلط پسندانہ عمل کو روکنا چاہیے اور عالمی امن اور ترقی کے فروغ کے لیے سنجیدگی سے اپنا تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ خبر پڑھیئے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے …

Show Buttons
Hide Buttons