کوئی الفاظ اس صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں، وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کو 10 انتہائی غیر محفوظ ممالک کی صف میں شامل کردیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پاکستان کی اسٹوری بتانے کے لیے موجود ہوں، میرا دل اور دماغ وطن کی یاد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے، میں اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں پر موسمیاتی آفات سے تباہ کاریوں کی شدت کو بتانے آیا ہوں، جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، 40 دن اور 40 رات شدید سیلاب نے صدیوں کے موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیے ہیں، ہمیں اس آفات اور اس سے نمٹنے کے بارے میں آگہی ہے، آج بھی پاکستان کا بیشتر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو صحت کے خطرات درپیش ہیں، حاملہ خواتین خیموں میں 650 بچوں کو جنم دیا، 1500 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں، جس میں 400 بچے بھی شامل ہیں، لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  پاکستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور جنگلات تباہ ہورہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج بھی ملک کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہو رہا ہے اور ملک کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کا سبب ہم نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کا عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجوہات میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لئے دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید رکھنا غلط نہیں ہوگا۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

Show Buttons
Hide Buttons