عالمی برادری کو افغانستان کو درپیش سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اکٹھے ہونا چاہیے۔ وزیر خارجہ

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ جیپے کوفوڈ سے ملاقات کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ڈنمارک اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جن میں گزشتہ دہائی کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

دونوں وزرا خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پاکستان ڈنمارک کو ایک اہم دوطرفہ پارٹنر کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے اہم رکن کے طور پر اہمیت دیتا ہے۔ وزیر خارجہ نے ڈنمارک کے ساتھ پاکستان کے سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور تعلیمی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈنمارک پاکستان کو اقتصادی طور پر خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں شامل کرنے اور ڈنمارک کی کمپنیاں پاکستان میں قابل تجدید توانائی کی مارکیٹ میں داخل ہونے کی خواہش رکھتی ہیں۔ وزیر خارجہ نے زور دیا کہ عالمی برادری کو افغانستان کو نہیں بھولنا چاہیے اور افغانستان کو درپیش سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اکٹھے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھی ہے۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے تناظر میں ڈنمارک کی امدادی امداد کو بھی سراہا۔

یہ خبر پڑھیئے

بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں کشمیری صحافی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں کشمیری صحافی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا او …

Show Buttons
Hide Buttons