چین کی جانب سے عالمی موسمیاتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش

چین کی جانب سے عالمی موسمیاتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش

21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ کے خصوصی نمائندے، ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر  میں منعقدہ  موسمیاتی تبدیلی کے  حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اور تقریر کی۔

وانگ ای  نے   خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین  کے خیال میں عالمی موسمیاتی  اہداف کے حصول کے لیے چار پہلوؤں سے  کوشش کی جانی چاہیئے ۔سب سے پہلے شرم الشیخ میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کے انعقاد پر توجہ مرکوز کرنا اور تخفیف، موافقت اور فنڈنگ میں مثبت اور متوازن نتائج حاصل کرنا ہے۔دوسرا عمل کے نفاذ کو اہمیت  دی جانی چاہیئے ۔ تیسرا عملی طور پر سبز تبدیلی کو فروغ  دیا جائے اور چوتھا، ایک اچھا سیاسی ماحول پیدا  کیا جائے ۔ 

وانگ ای نے اپنے خطاب میں  چین کی جانب سے ماحولیاتی ترجیحات اور سبز اور کم کاربن کی ترقی کے راستے پر غیرمتزلزل عمل کرنے کے لیے اٹھائے گئے مثبت اقدامات کا ایک سلسلہ متعارف کرایا۔انہوں نے کہا کہ  چین نے 2020 کے موسمیاتی عملی ہدف سے تجاوز کیا ہے ۔ چین  دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مزید عملی کام کرنے  کے لیے تیار ہے ۔ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار  کی حمایت  کرتا ہے  تاکہ  مشترکہ طور پر کرہ ارض کی حفاظت، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا  بنایا جا ئے 

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

Show Buttons
Hide Buttons