امریکہ میں شرح سود میں تیزی سے اضافے سے ملک میں کساد بازاری کے خطرے میں اضافہ

امریکہ میں شرح سود میں تیزی سے اضافے سے ملک میں کساد بازاری کے خطرے میں اضافہ

مقامی وقت کے مطابق، اکیس ستمبر کو امریکی فیڈرل ریزرو نے افراط زر کو مزید کم کرنے کے لئے، شرح سود میں 75 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا۔

مذکورہ اضافہ پالیسی کی شرح کو 3.0تا3.25 فیصد تک لے جاتا ہے۔ یہ ایک سال میں تیسرا موقع ہے جب امریکی فیڈرل ریزرونے شرح سود میں 75 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود کو 2008 کے اوائل سے لے کر اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ پالیسی سازوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ 2023 کے اوائل تک شرح سود میں مزید اضافے کی توقع رکھتے ہیں، جو کہ جون میں پہلے کی پیش گوئی سے کہیں زیادہ ہے۔

فیڈرل ریزرو کی جانب سے 21 تاریخ کو جاری کردہ اقتصادی پیش گوئی کے مطابق امریکہ میں ذاتی کھپت کے اخراجات سے ماپی جانے والی افراط زر کی شرح 2022 میں 5.4 فیصد تک پہنچ جائے گی اور 2023 میں گر کر 2.8 فیصد رہ جائے گی۔ پیش گوئی کے مطابق، 2022 میں امریکی جی ڈی پی کی شرح نمو صرف 0.2 فیصد اور 2023 میں 1.2 فیصد رہے گی۔  2022 کے آخر تک، امریکی بے روزگاری کی شرح 3.8 فیصد تک پہنچ جائے گی، اور 2023 میں یہ بڑھ کر 4.4 فیصد ہو جائے گی۔

ماہرین اقتصادیات کو اس بات پر تشویش ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شرح سود  میں تیزی سے اضافہ ، امریکی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور رواں سال کے اواخر یا آئندہ سال  کے اوائل تک مکمل کساد بازاری کا باعث بنے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی تبصرہ کیا کہ شرح سود میں تیز رفتار اضافے نے امریکہ میں کساد بازاری کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بلوچستان  کے پانچ اضلاع کی 141 یونین کونسلوں میں 7روزہ  انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو …

Show Buttons
Hide Buttons