چینی صدر شی چن پھنگ کے پیش کئے گئے نکات پر غور و فکر اور پھر عمل کی ضرورت ہے، سابق سفیر برائے چین نغمانہ ہاشمی

چینی صدر شی چن پھنگ کے پیش کئے گئے نکات پر غور و فکر اور پھر عمل کی ضرورت ہے، سابق سفیر برائے چین نغمانہ ہاشمی

شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہی اجلاس سے چینی صدر شی چن پھنگ  کے خطاب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق سفیر برائے چین نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ جو نکات چینی صدر شی چن پھنگ نے خطاب میں پیش کئے ہیں ان پر غور و فکر اور پھر عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ تمام ممالک باہمی تعاون، اعتماد اور مساوات کے ساتھ آگے بڑھیں اور مل کر مستقبل کی تبدیلیوں اور چلینجز سے نبرد آزما ہوں۔

نغمانہ ہاشمی نے دوستی ایف ایم 98 سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ صدر شی کے مطابق یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا میں صنعتی ترقی ہو، معاشی ترقی ہو، سماجی اقتصادی ترقی ہو لیکن یہ سب اُسی وقت ممکن ہے کہ علاقائی طاقتیں اور خصوصاََ ایس سی او کے رکن ممالک مکمل ربط اور باہمی تجارت کے تحت مل جل کر کام کریں اور بنیادی سماجی اشاریوں کو بہتر کریں۔

سابق سفیر نے کہا کہ توانائی کے حوالے سے صدر شی نے فرمایا کہ توانائی کے وسائل کا بہت احتیاط سے استعمال کیا جائے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے تحت توانائی کی تقسیم کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ اقتصادی و معاشی ترقی کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحفظ ہونا چاہیئے اور خطے کے تحفظ کے حوالے سے بھی ہمارا اتفاق رائے ہونا چاہیئے ہم سب کو اس حوالے سے مل کر کام کرنا چاہیئے۔

سابق سفیر کا کہنا تھا چینی صدر شی چن پھنگ کا شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک بہت بڑا مقام ہے، انکی بات غور سے سنی جاتی ہے اور اسے اہمیت دی جاتی ہے انہوں نے معاشی ترقی، قومی سلامتی، خطے کی سلامتی اور پھر علامی سلامتی کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ بہت اہمیت کی حامل ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

فیفا ورلڈ کپ، گروپ ای کی ٹیموں سپین اور جرمنی کے درمیان میچ 1-1 گول سے برابر

سپین اور جرمنی کی ٹیموں کے درمیان 22ویں فیفا ورلڈ کپ کا 28واں میچ 1-1 …

Show Buttons
Hide Buttons