چینی صدر نے اپنے خطاب میں مدبرانہ اور جامع خیالات کا اظہار کیا، ڈاکٹر نعیم احمد

چینی صدر نے اپنے خطاب میں مدبرانہ اور جامع خیالات کا اظہار کیا، ڈاکٹر نعیم احمد

چینی صدر شی چن پھنگ نے 16 ستمبر کو ازبکستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہی اجلاس سے کلیدی خطاب کیا۔ چینی صدر شی چن پھنگ کے خطاب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جامعہ کراچی میں شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر نعیم احمد نے چینی صدر کے خطاب کو ایک مدبرانہ بیان قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر نعیم احمد نے دوستی ایف ایم 98 کے پروگرام ہمقدم میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر نے اپنے خطاب میں مدبرانہ اور جامع خیالات کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے اس خطے اور تمام دنیا کے لیے ایک وژن وضع کیا ہے کہ کس طرح سے اس دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور معاشی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نعیم احمد نے کہا کہ چینی صدر نے “شنگھائی روح” کی بات کی ہے جس سے انکی اعلیٰ بصیرت بھی ظاہر ہوتی ہے، جس میں جیت جیت تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ برابری کا سلوک شامل ہے۔ اس کے علاوہ چینی صدر نے کھلے پن اور جامعیت کی بات بھی کی۔

مزید گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نعیم احمد نے خیال ظاہر کیا کہ صدر شی نے چین کی خارجہ پالیسی کے تسلسل کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے چینی صدر نے جو دوسرا پہلو اجاگر کیا وہ یہ ہے کہ دنیا کے پاس اب دو آپشنز ہیں کہ یا تو متحد ہو کر آپس میں تعاون کریں یا پھر منقسم ہو کر تصادم کی طرف جائیں۔

جامعہ کراچی میں شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر نعیم احمد نے کہا کہ چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام کے قیام کے لیے دنیا کو چینی ماڈل دیکھنا پڑے گا کہ چین کس طرح امن، استحکام اور معاشی ترقی کو تصور کرتا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

صبح 6 سے رات 11 بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کو داخل ہونے سے روکا جائے، سندھ ہائیکورٹ

صبح 6 سے رات 11 بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کو داخل ہونے سے روکا جائے، سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ ہیوی ٹریفک کو آج سے دن کے اوقات میں …

Show Buttons
Hide Buttons