عمران خان نے ملک میں احتساب کے نام پر بہت بڑا مذاق کیا ہے، مریم اورنگزیب

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان میں ہمت، جرات اور حوصلہ ہے تو بتائیں کون سی ایجنسیوں اور لوگوں نے انہیں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے بارے میں بریفنگز اور رپورٹس دیں؟، چیف الیکشن کمشنر کی گارنٹی کس نے دی؟ اداروں کے بیرونی سازش کے جھوٹے بیانیہ میں ساتھ دینے سے انکار پر عمران خان ان کے خلاف ہوگئے، عمران خان ہر ادارے میں ایک جاوید اقبال چاہتے ہیں، عمران خان ملک میں تماشہ لگانا بند کریں، انہوں نے 22 سال غلط بیانی کر کے سیاست کی، عمران خان سے جب بھی سوال پوچھا جائے وہ جواب نہیں دیتے، وہ کہتے ہیں کہ میں کسی قانون کے آگے جواب دہ نہیں۔

جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان دوسروں کو چور اور اپنے آپ کو فرشتہ ثابت کرتے رہے، انہوں نے 22 سال تک اسلامی ٹچ کے ذریعے سیاست کرنے کی کوشش کی، عمران خان کی ہر بات میں منافقت، جھوٹ، ڈرامے بازی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے کل میڈیا سیمینار میں کہا کہ انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بارے میں ایجنسیاں بریفنگ دیتی تھیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں بھی ایجنسیوں نے گارنٹی دی تھی تو عمران خان بتائیں کہ انہیں کون سی ایجنسی اور کون شخص رپورٹیں اور بریفنگ دیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ڈرامے، تماشے، نوٹنکی اور جھوٹ بولنا بند کریں، اگر ان میں ہمت، حوصلہ اور جرات ہے تو نام بتائیں کون سی ایجنسی کا کون سا بندہ انہیں پی پی پی اور ن لیگ کے بارے میں رپورٹس بھیجتا اور بریفنگ دیتا تھا، کس نے آپ کو چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں گارنٹی دی تھی؟۔ انہوں نے کہا کہ کیا عمران خان کو فارن ایجنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کو فارن ایڈڈ پارٹی ڈیکلیئر نہ کرنے کی گارنٹی دی گئی تھی؟۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان سے سوال پوچھیں تو وہ جواب نہیں دیتے، وہ کہتے ہیں کہ کوئی قانون ان سے جواب اور ریکارڈ نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن عمران خان سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دیتے، نیشنل کرائم ایجنسی ان کے الزامات پر ثبوت مانگے تو کہتے ہیں کہ ان کے پاس شہباز شریف کے خلاف ثبوت نہیں ہیں، لاہور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ عمران خان سے ان کے لگائے گئے الزامات پر ثبوت مانگیں تو وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس جواب نہیں، ایف آئی اے، اپوزیشن، میڈیا، پارلیمنٹ ان سے سوال پوچھے تو وہ کہتے ہیں میں جواب نہیں دوں گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر جواب دیتے رہے، جج ارشد ملک نے سب کچھ بتا دیا تھا، ان کو معلوم تھا کہ نواز شریف پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے تھے، نواز شریف نے جواب دیا تھا، انہیں پتہ تھا کہ انہوں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف کے خلاف کوئی ادارہ اور کوئی دوست ملک نہیں چھوڑا، عمران خان نے ایف آئی اے، این سی اے میں جا کر جھوٹے ثبوت پیش کئے، ڈیوڈ روز کو بلا کر جھوٹے ثبوت دیئے، جس عدالت میں نیب کے کیسز پیش ہوئے، عمران خان نے کوئی ثبوت نہیں دیا، وہ ایک الزام کا ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ بنا کر عمران خان نے لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں، 22 سال تک وہ لوگوں پر الزامات عائد کرتے رہے، انہوں نے اپنے دور میں جھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کی بیٹیوں، بہنوں اور مائوں کو گرفتار کیا، سزائے موت کی چکیوں میں رکھا اور اب کہہ رہے ہیں کہ مجھے ایجنسیاں کہتی رہیں کہ یہ چور ہیں۔ ا

نہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک میں احتساب کے نام پر بہت بڑا مذاق کیا ہے، وہ میڈیا کے بھی دشمن رہے ہیں، میڈیا سیمینار کر کے میڈیا کی آزادی کے دشمن بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بے گناہوں کو جیلوں میں رکھا اور آج کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ تھا، مجھے ایجنسیاں بریفنگ دیتی تھیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف پانامہ کا جال بچھایا گیا، انہیں سسیلین مافیا اور گارڈ فادر کہا گیا اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر تین بار کے منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات پر جج ارشد ملک کی گواہی آئی کہ مجھ پر دبائو ڈالا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف نے خود خط لکھ کر احتساب کا عمل شروع کروایا۔ جب نواز شریف کے خلاف کچھ نہیں ملا تو بلیک لاء ڈکشنری کا سہارا لے کر انہیں نااہل کیا گیا، نواز شریف نے پھر بھی ایک ہی بات کہی کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، اداروں کا سیاست میں کوئی کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر پاکستان واپس آئے، انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر پیشیاں بھگتیں لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ میں ملک کو آگ لگا دوں گا یا ملک کے ٹکڑے کر دوں گا لیکن جب عمران خان سے اقتدار جانے لگا تو انہوں نے کہا کہ نیوٹرلز ان کی سیاست اور اقتدار کو بچائیں، اداروں کا نیوٹرل ہونا آئینی تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں کھڑے ہو کر عمران خان نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے، میری ڈوبتی سیاست کو بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنا موازنہ نواز شریف سے نہیں کر سکتے۔

عمران خان منتیں ترلے کر کے اپنی سیاست اور اپنے اقتدار کو بچاتے رہے، نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ایک نہیں دو مرتبہ سیکورٹی اداروں نے کہا کہ کسی بیرونی سازش کے شواہد نہیں ملے، 31 مارچ 2022ء اور 22 اپریل 2022ء کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگز میں اس بات کی توثیق کی گئی تھی کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بخوبی علم تھا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو رہی ہے اور ان کا اقتدار ان سے چھن رہا ہے، اس لئے وہ روز تماشا کھڑا کر دیتے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا ہے کہ ان کے پاس نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج نواز شریف سرخرو ہوئے ہیں، ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ نواز شریف احتساب کے لئے پیش نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان فاشسٹ، ظالم، جھوٹے، نالائق، نااہل شخص ہیں، ان کا نواز شریف کے ساتھ کیا موازنہ، عمران خان نے نواز شریف کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان سے اقتدار کی کرسی چھن جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، وہ وفاق کی اکائیوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے ہیں، اداروں کے اندر اپنے چیف آف اسٹاف کے ذریعے بغاوت کی کال دلواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اقتدار کے ہوس میں اتنا آگے چلے گئے کہ انہوں نے لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کے خلاف اپنے ٹرولز اور پارٹی ترجمانوں سے مہم چلوائی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مسجد نبویۖ میں سیاسی مخالفین کے خلاف نعرے لگوائے اور آج وہ بے گناہ دس دس سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس ان کی فارن فنڈنگ کا جواب نہیں ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی قانون کے آگے جواب دہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس جواب نہیں ہے تو پھر قانون موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے اپنے خلاف جھوٹے الزامات پر جواب دیا، مریم نواز جھوٹے الزامات پر اپنے والد کو سرخرو کرنے جیل گئیں، کدھر ہیں بشریٰ بی بی اور فرح گوگی، جواب کیوں نہیں دیتیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے پنجاب کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سے کہا کہ شہباز گل کو جیل سے نکالا جائے، اس نے میرے کہنے پر ٹرانسکرپٹ پڑھا، اس میں شہباز گل کی غلطی نہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ وہ عمران خان کے ترجمانوں کے راستے پر چلیں جس پر کسی کا تمسخر اڑایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہئے کہ کہاں کہاں ڈرامہ ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہباز گل کی میڈیکل رپورٹس خود ان کے اپنے ڈاکٹرز نے دیکھیں جو کہہ رہے ہیں کہ شہباز گل بالکل فٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل کو کیمرہ دیکھ کر سانس کی تکلیف ہو جاتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کو بتانا ہوگا کہ انہیں کس ایجنسی اور کس شخص نے بریفنگ دی، کس نے انہیں الیکشن کمشنر کی گارنٹی دی اور کیا گارنٹی دی تھی۔

عمران خان چاہتے ہیں کہ انہیں ہر ادارے میں جاوید اقبال ملے جسے ویڈیو دکھا کر کمپرو مائز کیا جا سکے اور اس طرح نیب نیازی گٹھ جوڑ بنے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کسی کی بہن، بیٹی کو نہیں چھوڑا، شہباز شریف کی بیٹیاں لاہور ہائی کورٹ جا کر پیشیاں بھگتتی رہیں، ان کے گھروں پر حملے کروائے، فریال تالپور صاحبہ کے گھر پر حملہ کیا، انہیں جیلوں میں گھسیٹا، یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب عمران خان وزیراعظم تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے صحافیوں پر تشدد کیا، میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر کے میڈیا ہائوسز کو پیغام دیا کہ چپ ہو جائیں لیکن اب چپ ہونے کا وقت عمران خان کا ہے، اب الزامات کا تماشا ختم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کبھی ایکس وائے زیڈ کا نام لیتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ مجھے ایجنسیوں نے کہا تھا، وہ نام بتائیں انہیں کس ادارے، کس ایجنسی نے کہا تھا، کس نے رپورٹ دی تھی اور کس نے گارنٹی دی تھی اور کیا گارنٹی دی تھی، ان سب چیزوں کا جواب آنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان محض الزامات لگا کر بھاگ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فارن ایجنٹ عمران خان کو فارن ایڈڈ پولیٹیکل پارٹی کا جواب دینا ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے سیلاب کے نام پر فنڈ ریزنگ کی، شوکت خانم ہسپتال کے نام پر فنڈز حاصل کئے، ہندوستان، اسرائیل، امریکہ، کینیڈا سے فنڈنگ لی اور اس فنڈنگ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا، عمران خان کو اس فنڈنگ پر جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان میں جھوٹ بولنے کی بہت ہمت اور حوصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جھوٹے، چور، منافق، نالائق، نااہل، فاشسٹ اور سسیلین مافیا ہیں، انہیں قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا اور اگر جواب نہیں دیں گے تو ہمیں لینا آتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، اداروں نے عمران خان سے جواب مانگا ہے اور عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ جواب نہیں دیں گے، وہ قانون کے پابند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آیا ہے، اس میں تمام چیزیں ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن لوگوں کو طلب کیا گیا اگر وہ نہیں آ رہے تو قانون کو جواب لینا آتا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اصل مسائل کی جڑ عمران خان ہیں، عمران خان نے خود کہا کہ انہوں نے ایجنسیوں کی رپورٹس پر سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کے خیال میں صرف وہ خود جمہوریت پسند ہیں باقی سب غیر جمہوری لوگ ہیں۔ اگر وہ اقتدار میں ہیں تو ملک مستحکم ہے، وہ اقتدار سے باہر ہوں تو ملک کو آگ لگانے اور تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملکی معیشت تباہ کی، لوگوں کو بے روزگار کیا، مہنگائی کی کیونکہ ان کی ترجیح ان چیزوں کو ٹھیک کرنا نہیں تھی اور جب دوسری حکومت آئی تو انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سازش ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک طرف الیکشن کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ اس حکومت کو ماننے کو تیار نہیں تو پھر الیکشن کو کیسے مانیں گے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کرانا تھا تو اس وقت کراتے جب ان کے پاس اختیار تھا، وہ خود وزیراعظم تھے۔ ان کے پاس پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق کی حکومتیں تھیں، وہ اسمبلیاں تحلیل کرتے اور کہتے کہ میرے خلاف سازش ہوئی ہے اور میں الیکشن میں جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے لگی اور ان سے اقتدار جانے لگا تو اس وقت انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے اداروں اور شہداء کے خلاف مہمیں چلائیں، ملک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی بات کی اور جب بات ان پر آئی تو کہا کہ وہ کسی قانون کو نہیں مانتے، وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزراء اعلیٰ، سپریم کورٹ، نیب، ایف آئی اے ان کے ماتحت ہو، ان کا فاشسٹ رویہ پورے ملک میں چلے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تماشا مزید نہیں چل سکتا، اب انہیں اپنے اعمالوں کا جواب دینا ہوگا۔

ایک اور سوال پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے چار سال تک سی پیک کے منصوبوں کو روکے رکھا، سی پیک کے منصوبوں کے ساتھ ملک کے لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے، ملک کے اہم منصوبے تھے، سال میں ایک میٹنگ ہونا تھی لیکن انہوں نے چار سال تک سی پیک پر کوئی میٹنگ نہیں بلائی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے ساتھ ساتھ چین کی حکومت کو بھی متنازعہ بنا دیا کہ سی پیک کے منصوبے کرپشن پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان فارن فنڈنگ کے ذریعے یہ سازش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 72 سالوں میں ہندوستان کی کبھی کشمیر پر نظر نہیں اٹھی لیکن عمران خان نے اپنے دور میں کشمیر کا سودا کیا، یہ جب امریکہ سے واپس آئے تو کہا کہ میں ورلڈ کپ لے کر آیا ہوں، مجھے ثالثی کا کہا ہے، جو شخص دو بندوں کے درمیان بات نہ کر سکے وہ ثالثی کیا کرے گا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کو سازش کے علاوہ کچھ نہیں آتا، سازشی خط سے لے کر سازش کے بیانیہ تک وہ ایک ہی بات کرتے ہیں لیکن ان کے پاس ثبوت نہیں ہوتا۔ ان سے سوال پوچھیں تو ان کے پاس جواب ہیں ہوتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اس حوالے سے تفصیلی طور پر بتا چکے ہیں، گزشتہ ماہ جب ڈالر کی قیمت بڑھ رہی تھی تو حکومت نے پٹرول کی قیمت کم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جو تباہی مچا کر گئے ہیں، عوام اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں لیکن حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جہاں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کا حساب لیا جائے گا چاہے وہ عمران خان ہو یا شہباز گل۔

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بلوچستان  کے پانچ اضلاع کی 141 یونین کونسلوں میں 7روزہ  انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو …

Show Buttons
Hide Buttons