افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر افغان عبوری حکومت کی جانب سے یادگاری سرگرمیوں کا انعقاد

15 اگست 2021 کو افغان طالبان نے دارالحکومت کابل پر کنٹرول کر لیا، اسی دن امریکی افواج نے افغانستان سے جلد بازی میں انخلاء شروع کر دیا۔

اس انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر افغانستان میں قومی تعطیل کی گئی۔ افغان عبوری حکومت نے امریکہ اور اتحادی افواج کےخلاف فتح کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ افغان عبوری حکومت کے قائم مقام وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت افغان عبوری حکومت کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے تقریب میں شرکت کی اور افغانستان میں امریکی فوج کی طرف سے ڈھائے جانے والے مختلف مظالم کی مذمت کی۔

امریکہ نے “انسداد دہشت گردی” کے نام پر افغان جنگ کا آغاز کیا اور 174,000 افغانوں کی جانیں لی جن میں 30,000 سے زیادہ عام شہری بھی شامل تھے۔ تقریباً ایک تہائی افغان مہاجر بن گئے اور آدھے سے زیادہ افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان، جو جنگ کے بعد تعمیر نو کا منتظر ہے، کو شدید انسانی بحران، مسلسل معاشی بدحالی، اورمسلسل دہشت گرد حملوں سمیت متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ افغان ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ افغانستان کو کوئی ترقی نہیں دےسکا اور امریکہ نے جو کچھ اپنے مفادات کے تحت کیا ہے وہ افغان عوام کو ناقابل تلافی مصیبت میں مبتلا کر گیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

Show Buttons
Hide Buttons