خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی کی زیر صدارت چھاتی کے سرطان کی روک تھام وعلاج کے لئے قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کا اجلاس

خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے میڈیا اور پاکستان میں کام کرنے والی قومی و بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین میں چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص کے بارے میں خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ چار سالوں سے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم کی قیادت کر رہی ہیں جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، مرض کی تشخیص سے متعلق خدمات حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو ایوان صدر میں چھاتی کے سرطان کی روک تھام اور علاج کے لئے پاکستان میں کام کرنے والی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈبلیو ایچ او، یو این ایف پی اے، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، این جی او گرین سٹار، شفا انٹرنیشنل ہسپتال، شوکت خانم ہسپتال، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (ایچ آر ڈی این)، عورت فاؤنڈیشن، خیبر میڈیکل کالج اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور، ڈوپسی فاؤنڈیشن، پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور روچے پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے اور ہم سب کو سال بھر آگاہی کی سرگرمیوں کا اہتمام کر کے اس مہلک مرض کو شکست دینے کے لیے ہم آہنگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بیماری کی دیر سے تشخیص کی وجہ سے چھاتی کے کینسر سے ہونے والی اموات کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹیز کو بیماری کے بارے میں جلد پتہ لگانے کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے شامل ہونا چاہیے، اسی طرح اسکریننگ کی سہولیات کو بھی زیادہ سے زیادہ علاقوں تک بڑھایا جانا چاہیے۔

خاتون اول نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پورے سال کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کریں تاکہ خواتین کو اس بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چھاتی کے کینسر کی علامات کے بارے میں آگاہی نہ ہونے اور دیر سے تشخیص کی وجہ سے ہر سال ہزاروں خواتین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔ اگر چھاتی کے کینسر کی ابتدائی مراحل میں تشخیص ہو جائے تو مریض کے بچنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ اجلاس میں شریک اداروں اور این جی اوز کے نمائندوں نے خاتون اول کو بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی مہم اور علاج کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

Show Buttons
Hide Buttons