نئی نسل کو نفرت اور تقسیم سے پاک پاکستان دینا ہمارا ہدف ہونا چاہئے، وزیر دفاع

نئی نسل کو نفرت اور تقسیم سے پاک پاکستان دینا ہمارا ہدف ہونا چاہئے، وزیر دفاع

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ نئی نسل کو ایک ایسا پاکستان دیں جس میں نفرت اور تقسیم نہ ہو ، جس معاشرے میں منافرت کے بیچ بوئے جاتے ہیں وہ معاشرے تحلیل ہوجاتے ہیں ، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر اقتدار نہ ملے تو ملک توڑنے کی باتیں کی جائیں ، ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں کہ نوجوان امید کے ساتھ جی سکیں ۔وہ جمعہ کو پاکستان یوتھ کنوونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی آبادی میں نوجوان 65 فیصد ہیں ، نوجوان اصل میں ہمارا مستقبل ہے ، ہم نے اپنی زندگی گزار دی ہے، پاکستا ن کے قیام کو 75 سال مکمل ہوگئے ہیں، انشا اللہ قیامت تک پاکستان قائم و دائم رہے گا-

انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف شعبوں کی قیادت کرنے والے بھی نوجوان ہیں ، ہر شعبے میں نوجوان آگے نظر آرہے ہیں، ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ نئی نسل کو ایک ایسا پاکستان دیں جس میں نفرت اور تقسیم نہ ہو ، جس میں محبت ،رواداری ہو اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے ،جب معاشرے میں منافرت کے بیچ بوئے جاتے ہیں ،وہ معاشرے تحلیل ہوجاتے ہیں ، ہم 75 سال میں کیا دے سکے اور کیا نہیں دے سکے ،ہماری اور ہمارے والدین کی نسل کے لوگوں کے کردار بارے تاریخ بتائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کم از کم نوجوانوں کے اندر ختم ہونے والی امید کو پر امیدی میں تبدیل کرنا ہے ، 75 سالہ تقریبات میں سب سے اولین احتساب ہونا چاہیے ، ہمیں جو نعمتیں ملیں ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا، 14اگست 1947 کے لوگوں میں محبت ، روشن مستقبل کی امید تھی ، آج اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ وہ امید اور کمٹمنٹ آج باقی ہے، کیا ہم اپنے ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں یا قومی ایجنڈے کو بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 75 سال گذر گئے ،اس میں ہم نے اپنا آدھا وطن بھی کھویا ہے ، اپنی روایات ، رواداری کا کلچر بھی کھویا ہے، نئی نسل کو وہ پاکیزہ اور مقدس روایات جو ہمیں اپنے بزرگوں نے دیں تھی یہ نوجوان ان سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں کہ نوجوان امید کے ساتھ جی سکیں ، نوجوانوں کی توقعات پوری ہوں، ملازمتیں ضرور ملیں ،ذریع معاش محفوظ ہوں ،انھیں اعلیٰ تعلیم ملے اور وہ معاشرے کے اعلی شہری بنیں ، اول و اخر اس وطن عزیز کے ساتھ کمٹمٹ کا ایجنڈا سب سے پہلے ہو ،اپنی ذاتی خواہشات اسکے بعد ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پاکستان کے ساتھ رشتہ مشروط ہے ،اگر کسی کو اقتدار نہیں ملتا تو پاکستان کے ٹکرے کرنے اور تباہی کی بات ہوتی ہے، اگر نوکری نہیں ملتی تو پاکستان سے باہر جانے کا سوچا جاتا ہے، اگر امیدیں اور مقاصد پورے نہیں ہوتے تو ایسی باتیں کی جاتیں ہیں جس سے پتہ لگتا ہے کہ مایوسی ہی مایوسی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے قیام کو 75 سال پورےہور رہے ہیں، ہم نے ان گزرے ہوئے سالوں میں پاکستان کے لئے جو کچھ کیا ہے ،آئندہ بھی اسی محبت ، لگن کا اظہار کریں 

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بلوچستان  کے پانچ اضلاع کی 141 یونین کونسلوں میں 7روزہ  انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو …

Show Buttons
Hide Buttons