بے لگام ڈالر کی وجہ سے عالمی معیشتوں میں عدم استحکام

بے لگام ڈالر کی وجہ سے عالمی معیشتوں میں عدم استحکام

ڈالر ان دنوں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار ڈالر جمع کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔ جس نے پہلے سے بحران کا شکار عالمی معیشتوں کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

ڈالر کے حامل امریکی سیاح تو شاید ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر خوش ہوں لیکن ملٹی نیشنل کمپنیاں اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ سری لنکا میں ڈالر کی کمی نے ملکی تاریخ کے بدترین معاشی بحران میں حصہ ڈالا، جس کا نتیجہ وہاں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔

پاکستان کا روپیہ جولائی کے آخر میں ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گیا، جس نے اسے ڈیفالٹ کے دہانے پر دھکیل دیا۔ اسی طرح مصر ڈالر بحران کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں انتہائی اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔

کیپیٹل اکنامکس کے چیف اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ماہر اقتصادیات ولیم جیکسن نے کہا کہ یہ ایک چیلنجنگ ماحول  ہے۔ دنیا سوچنے پر مجبور ہے کہ ہمیشہ”ڈالر کی مسکراہٹ” دنیا کو بھونچال کی طرف کیوں لے جاتی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بلوچستان  کے پانچ اضلاع کی 141 یونین کونسلوں میں 7روزہ  انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو …

Show Buttons
Hide Buttons