گھانا کی نام نہاد “کامیابی” مغرب کے تباہ کن ترقیاتی ماڈل کو بے نقاب کرتی ہے

فارن پالیسی میگزین کی ویب سائٹ پر حالیہ دنوں ایک مضمون شائع ہوا۔

اس مضمون کا عنوان تھا، گھانا کی “کامیابی” مغرب کے تباہ کن ترقیاتی ماڈل کو بے نقاب کرتی ہے۔ مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح نام نہاد مالی امداد کے نام پر گھانا کے معاشی نظام کو مفلوج بنا دیا گیا۔ اپنی امداد کے بل بوتے پر گھانا کو مالی امداد دینے والے “انٹرنیشنل کنسورشیم” گھانا کے وسائل کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ بظاہر گھانا سے بیش قیمت معدنیات نکل رہی ہیں لیکن ان کے مالی فوائد اور ثمرات عام آدمی تک پہنچتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔

 افریقہ کی زیادہ تر نام نہاد کامیابیوں کی کہانیوں کا انجام ایک جیسا ہے۔ ان ممالک کے وسائل ٘مغربی طاقتوں کی جانب سے بے دریغ انداز میں لوٹے جا رہے ہیں اور عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہ ہے مغرب کا نام نہاد معاشی ماڈل جو آج کی دنیا میں نوآبادیاتی دور کی مثالوں کو پھرسے زندہ کر رہا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

بلوچستان  کے پانچ اضلاع کی 141 یونین کونسلوں میں 7روزہ  انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو …

Show Buttons
Hide Buttons