تازہ ترین

ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد اب قانون اورآئین کے مطابق کارروائی کے لئے مشاورت جاری ہے،خواجہ سعد رفیق کی پریس کانفرنس

وفاقی وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد اب قانون اورآئین کے مطابق کارروائی کے لئے مشاورت جاری ہے، بلوچستان میں فلڈریلیف میں مصروف فوجی افسران کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت ایک المیہ ہے۔

بدھ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ بلوچستان میں فلڈریلیف میں مصروف فوجی افسران کی شہادت ایک المیہ ہے، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ دفاع پاکستان اور ناگہانی آفات کے دوران اپنی جانین ہتھیلی پررکھ کر مشکل میں گھرے افرادکی مدد کی ہے، کورکمانڈر کوئٹہ اور دیگر افسران کی شہادت بہت بڑا سانحہ ہے، شہدا زندہ ہیں، اللہ ان شہدا کے درجات بلند اوران کے اہل خانہ کوصبر عطا فرمائے، ہم ان کےاہل خانہ کے غم میں برابر شریک ہیں، پاکستان ریلویز نے سیلاب زردگان کی مدد کے لئے ریلیف کیمپ قائم کئے ہیں اور ہم شہریوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ جو بھی سامان سیلاب زدگان تک پہنچاناچاہتے ہیں ہم تک پہنچائیں، ہم وہ سامان متاثرین تک پہنچائیں گے۔

ریلوے افسران نے فیصلہ کیاہے کہ گریڈ۔17 سے اوپر والے ایک دن کی تنخواہ سیلاب زدگان کو دیں گے۔ این جی او ز سے بھی کہوں گا کہ وہ سامان بھجوانا چاہیں توہم اس سلسلہ میں ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور میں ہمارے سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی نذیر چوہان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔امید ہے عدالتیں ان کو انصاف فراہم کریں گی اور وہ جلد رہا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ کے شرکاملک میں فساد برپا کرنا چاہتے تھے اس لئے ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کو نذیر چوہان کےساتھ ملانا درست نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ عمران خان خود خرابی کر کے اس کا الزام مخالفین پر لگاتے ہیں اوریہ وقت سے ثابت ہوا ہے۔ عمران خان مخالفین کے خلاف ایسی زبان استعمال کرتا ہےجو کوئی بھی عزت دارانسان نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے ہمیشہ آئین شکنی کی ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکرنے آئین توڑاتو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوا۔ عدالتوں نے بھی ان کےخلاف فیصلہ دیالیکن وہ پشیمان نہیں۔ عمران خان نے چار سالہ دور حکومت میں 4 کیا گل کھلائے، سب جانتے ہیں۔ کوئی میگاپراجیکٹ شروع نہیں کیا۔

قرضہ کئی گنابڑھایا اور معیشت کو بری طرح تباہ کیا۔ اب الزام لگاتے ہیں کہ معیشت ڈوب رہی ہے یہ سب آپ کا کیا دھراہے۔ خواجہ سعدرفیق نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد ایک آئینی طریقہ کارہے، اس میں بھی ابہام پیداکیاگیا اورکئی اراکین کو نااہل کروایا گیا جس کی بناپر پنجاب میں پرویز الہٰی کی حکومت قائم ہوئی۔ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد اب قانون اورآئین کے مطابق عملدرآمد کریں گے اس پر مشاورت جاری ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ لوگ آپ کو ممنوعہ فنڈنگ دے کیوں رہے تھے۔

امریکی، برطانوی اور بھارتی شہری آپ کو رقوم کیوں دےرہے تھے ، اگر یہ سب جائز تھی تو آپ نے انہیں چھپائے کیوں رکھا۔ آف شور کمپنیوں کے بانی آپ ہی نکلے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان اس بات کاجواب دیں کہ غیر ملکی کمپنیاں ان پر کسی خوشی میں سرمایہ کاری کررہی تھیں اوران کاکیاایجنڈا تھا۔ آپ نے چار سال میں کتنے منصوبےختم کئے ، پہلا سی پیک تھا جو آپ نے معطل کیا۔ سی پیک بند کیا، ایم ایل ون میں کیا کیا، گوادر میں کیاکیا، چارسال خرابی ہوتی رہی، پیسہ پڑارہا، سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں، معیشت ڈوب چکی تھی ۔آپ نے ملک کی معیشت کابیڑہ غرق کیا۔

انہوں نے کہاکہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، ہم نے مشکل فیصلے کئے تاکہ ملک کی معیشت کوبہتر کیاجاسکے لیکن عمران خان کا طرز عمل ابھی بھی نہیں بدلاوہ آج بھی کہتاہے کہ خدنخواستہ پاکستان سری لنکابن جائے گا۔پاکستان نہ دیوالیہ ہو گا ، نہ سری لنکا بنے گا بلکہ اس کو ہم ایک مستحکم معاشی ملک بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان بری طرح بے نقاب ہو رہے ہیں، قدرت بھی ان سے انتقام لے رہی ہے ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکیم سعید اورڈاکٹر اسراراحمد صحیح کہتے رہے ہیں کہ ان کو اس ملک میں اس ایجنڈے کے تحت بھیجا گیاہے کہ ملک کی معیشت تباہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہم بھی جانتے تھے کہ آپ کو حکومت میں لاکر بیٹھایا گیاتھا، ہم نے توکچھ نہیں کیا، پاکستان کو عدم استحکام کاشکار نہیں کیا۔ ہم نےتنقید ضرور کی لیکن گالیاں نہیں دیں۔ اب آئینی طریقے سے ہماری حکومت بنی ہے تو آپ بھی انتظار کیں اور صرف اس بات کاجواب دیں کہ ممنوعہ فنڈنگ کیوں لی ہے۔

ہر سال جھوٹا سرٹیفکیٹ کیوں جمع کرایا۔ آپ خود میرصادق نکلے ہیں۔ آپ سے بارباریہ سوال پوچھا جائےگا کہ آپ نے ممنوعہ فنڈنگ کیوں لی۔ ابھی توکئی سالوں کا آڈٹ نہیں ہوا۔ وہ ہو گاتو پتہ نہیں کیا کچھ نکلے گا۔ آپ اس دور کے حسن بن صباح ہو ۔ پی ٹی آئی کی سیاست گالیوں سے شروع ہوتی ہے اور گالیوں پر ختم ہوتی ہے ۔ آپ نے اقتدار کے لئے ملک میں ایک تفریق پیداکی ہے لیکن اب پاکستان کے لوگ آپ سے جوابدہی کریں گے، اللہ بھی کرےگااوروہ جواب دہی آپ سے ہورہی ہے ،لوگ آپ سے جان چھڑارہے ہیں۔ پھر آپ کہتےہیں کہ وہ نیوٹرل ہوگئے ہیں، کیاان کو نیوٹرل نہیں ہوناچاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر ادارے میں اپنی مرضی کا شخص لگانا چاہتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی ایک سیاسی حقیقت ہیں۔ ہم اقتدار میں رہیں یانہ رہیں لیکن ہم ایک حقیقت ہیں ۔اگر عمران خان لانگ مارچ کرے گا تو ہم اسلام آباد کو بچائیں گے۔ لوگ ہمارے ساتھ بھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان اس سوال کا جواب دیں کہ وہ کن کے مفاد کےلئے کام کررہےہیں، سی پیک رول بیک کیوں کیاہے،معیشت تباہ کیوں کی ، کشمیر کا سوداکیوں کیا ہے، پاکستان کو دوست ممالک سے دور کیوں کیا ہے۔

یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب ان کو دینا ہوگا۔ جھوٹ کا منجن کب تک بیچیں گے۔ جو آپ نے چھپایاہےوہ بھی سامنے آئے گا۔ عمران خان ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے اور ان لوگوں کے خلاف پراپیگنڈاکر رہاہے جنہوں نے پاکستان میں سیاسی اورجمہوری جدوجہد کی ہے ، مارشل لائوں کامقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان نے نہ صرف اپنے لوگ خراب کئے بلکہ ہمارے لوگ بھی خراب کئے کیونکہ وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم بھی اس کے لب و لہجے میں جواب دیں ۔ اس نے ملک کی سیاسی اقدار کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

شیاؤمی نے انسان نماء روبوٹ سائبر ون کو مارکیٹ میں متعارف کروا دیا

شیاؤمی نے انسان نماء روبوٹ سائبر ون کو مارکیٹ میں متعارف کروادیا چین کی سمارٹ …

Show Buttons
Hide Buttons