وزیراعظم نے حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ملک میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

یہ بات انہوں نے کمشنر کراچی اور میٹرو پول سٹی کے دیگر حکام سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

صوبہ سندھ میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں تین وفاقی وزراء سینیٹر شیری رحمان، سید امین الحق، عابد حسین بھیو اور تین اراکین قومی اسمبلی کیسو ملکھیال داس، سید غلام مصطفیٰ شاہ اور میر عامر علی خان مگسی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی صوبہ سندھ کے مختلف شہروں کے دورے پر ہے اور صوبے میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ مرتب کرے گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہمارے پاس یہ کام کرنے کے لیے تین دن ہیں اور چوتھے دن ہمیں صوبے میں ہونے والے نقصانات کی رپورٹ پیش کرنی ہے اور حکومت یہاں کے لوگوں کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے پالیسی وضع کرے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے کچھ دور دراز علاقے ہیں جہاں میڈیا نہیں پہنچ سکتا ہم وہاں جا رہے ہیں اور لوگوں سے ملیں گے۔

علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے حالیہ بارشوں سے متاثرین کو خوراک اور دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مون سون کی بارشوں کا تناسب گزشتہ 20 سالوں کی اوسط سے 625 فیصد زیادہ ہے، جبکہ سندھ میں 501 فیصد رہا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام محکمے مل کر صوبے میں عوام کی خدمت کریں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق نے کہا کہ شہر میں سیوریج کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے لہٰذا حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔ امین الحق نے کہا کہ اس کے علاوہ حکومت کو محکموں کو مزید سہولیات فراہم کرنی چاہئیں کیونکہ حالیہ بارشوں کے بعد صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہیں مزید مشینری کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں کمشنر کراچی اور دیگر حکام سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں قلیل، درمیانی اور طویل مدتی منصوبے بنائے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں سے بھرپور تعاون کرے گی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ حکمت عملی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ مقامی انتظامیہ اپنا کام مستعدی سے کر رہی ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی، سندھ حکومت کے ترجمان اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ شہر میں انڈر پاسز ڈوب گئے تھے اور کھڑا پانی نکال دیا گیا ہے اور بارشوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سروے کرایا جائے گا اور عوام کو ہونے والے مجموعی نقصانات کی رپورٹ مرتب کی جائے گی اور بعد میں رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔ اس موقع پر کیسو مل کھیل داس، سید غلام مصطفی شاہ اور میر عامر علی خان مگسی نے بھی گفتگو کی ۔بعد ازاں کمیٹی کے ارکان نے حکام کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں بشمول ٹاور، کورنگی ندی اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔

یہ خبر پڑھیئے

ملک کے بیشتر حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا، بالائی پنجاب، بلوچستان، سندھ، کشمیر …

Show Buttons
Hide Buttons