صوبے میں سیلابی بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال اور نقصانات کا بھرپور طور پر ازالہ کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلابی بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال اور ہونے والے نقصانات کا بھرپور طور پر ازالہ کیا جائے گا ،

صوبائی اور وفاقی حکومت اور تمام ادارے صوبے بھر میں سیلابی بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں بحالی اور ریلیف کے اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں ،متاثرہ لوگ ہمارے اپنے لوگ ہیں اور حکومت بھی آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے تمام متاثرہ لوگوں کی بھرپور معاونت کرے گی، پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے دلیری اور مستعدی سے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہمارے صوبے میں گزشتہ برسوں میں بارشیں کم ہوئیں اور خشک سالی کا خدشہ تھا ،بارشیں اللہ کی رحمت ہیں اور یقیناً ان بارشوں سے جہاں آفت کا سامنا ہے وہی پر پانی زیر زمین سطح اب بلند ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات سے بھی بہت سے نقصانات ہوئے کیوں کہ ہم نے پانی کی گزرگاہوں پر گھر تعمیر کیے ہیں اور اسے زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں ۔

انہوں نے اپنے پیغام میں ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد سے بھی درخواست کی کہ تنقید کی بجائے سیلابی بارشوں سے متاثرہ علاقوں کے بارے میں حکومت کو آگاہ کریں اور ہمارے ساتھ متاثرہ علاقے کی صورتحال شیئر کریں کیونکہ میڈیا حکومت اور اداروں کے درمیان اس وقت ایک مربوط کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن متاثرہ علاقوں میں اب تک حکومت کی رسائی نہیں اور میڈیا کے نمائندے وہاں جا چکے ہیں تو وہ اس حوالے سے حکومت کو بھی باخبر رکھیں تاکہ فوری طور پر ریلیف اور ریسکیو کے اقدامات کئے جا سکیں ۔

انہوں نے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس دلیری اور مستعدی سے انہوں نے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ہے وہ یقیناً قابل فخر ہے اور یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کی آزمائش کی گھڑی میں ہم سب ساتھ ہیں اور متاثرہ اضلاع میں پاک آرمی ، وفاقی اور صوبائی حکومت بھرپور انداز سے کام کر رہی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال پر وفاقی حکومت کو بھی آن بورڈ لیا ہے اور وفاقی حکومت نے بھی صوبائی حکومت کے طرز پر جاں بحق افراد کے لیے 10 10 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف بھی حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے پوری طرح سے باخبر ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے چئیرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ ریلیف اور بحالی کے کاموں کو تیز کیا جائے اور این ایچ اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ متاثرہ پلوں کو جلد مرمت کرتے ہوئے مواصلاتی رابطوں کو بھی بحال کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاک فوج نے حالیہ سیلابی صورتحال پر صوبائی حکومت کی درخواست پر ہمہ وقت اپنی دستیابی کو یقینی بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ متاثرہ اضلاع میں وی آئی پی موومنٹ کو کم کیا جائے کیونکہ اس سے انتظامیہ کو ریلیف اور بحالی کے کاموں میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے جاں بحق افراد میں کوئی چیک تقسیم نہیں کیے کیونکہ ہم نے یہ تاثر نہیں دینا کہ ہم یہاں پر فوٹو سیشن کے لیے آئے ہیں اور ہم اپنے متاثرہ لوگوں میں چیک تقسیم کرکے ان پر کوئی احسان نہیں کر رہے جبکہ ہم اپنے متاثرہ لوگوں میں چیک بھی دے رہے ہیں اور ان کی مالی معاونت بھی کر رہے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے اپنے حالیہ دورہ لسبیلہ میں انتظامیہ کو یہ واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور اپنا تمام وقت ریلیف اور بحالی کے کاموں میں صرف کریں تاکہ حکومتی مشینری زیادہ سے زیادہ متاثرہ افراد کی مدد کر سکے ۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کی انتظامیہ کے لیے بھی یہ ایک آزمائش کی گھڑی ہے اور ہم نے مل کر کام کرنا ہے اور ہم سب اللہ تعالی کی مدد اور نصرت سے اس صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں جہاں سے بھی متاثرہ افراد کے حوالے سے اطلاع موصول ہوتی ہے تو صوبائی حکومت اور انتظامیہ پوری طور پر متحرک ہو کر متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کام فوری طور پر شروع کردیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت زیادہ دشوار راستے ہیں اور ہم متاثرہ افراد کی مشکلات میں کمی کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی تسلسل کے ساتھ کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں متاثرہ افراد کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنی چاہئے کیونکہ انہیں اس وقت سخت مشکلات کا سامنا ہے اور یہ ہمارا بھی قومی فریضہ بنتا ہے کہ ہم مصیبت اور مشکل کی گھڑی میں آپ نے متاثرہ بھائیوں کی بھرپور مدد کریں۔

یہ خبر پڑھیئے

ملک کے بیشتر حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا، بالائی پنجاب، بلوچستان، سندھ، کشمیر …

Show Buttons
Hide Buttons