مودی حکومت مسلمانوں، اقلیتوں پر مظالم کی سرپرستی کر رہی ہے: ہیومن رائٹس واچ

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارت میں مودی کی سربراہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے انتہا پسند ہندو قوم پرستوں کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نہ صرف ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے بلکہ اِن انتہا پسندوں کی سیاسی سرپرستی بھی کر رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بھارت میں حکام نے ایسے قوانین اور پالیسیاں وضع کی ہیں جن کے ذریعے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بھارتی حکومت کی ان پالیسیوں کے ناقدین کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے پولیس اور عدالتوں جیسے آزاد اداروں میں تعصب کو سرایت کر دیا ہے اور قوم پرست گروپوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے جو مذہبی اقلیتوں کو دھمکانے، ہراساں کرنے اور ان پر حملوں میں ملوث ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی آزادی کے بعد سے آئینی تحفظ کے باوجود مسلمانوں کو امتیازی سلوک، تعصب اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کا دورہ تائیوان عالمی تنقید کی زد میں

Show Buttons
Hide Buttons