تازہ ترین
امریکی ماہر قانون کی چین کی شنہوا نیوز ایجنسی سے خصوصی بات چیت

امریکی ماہر قانون کی چین کی شنہوا نیوز ایجنسی سے خصوصی بات چیت

امریکہ پِٹسبرگ یونیورسٹی کے قانون کے وزٹ پروفیسر ڈینیئل کوروالک نے حال ہی میں شنہوا نیوز ایجنسی کو ایک تحریری انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں امریکہ میں جاری کردہ نام نہاد ویغور جبری مشقت کے حوالے سے ایکٹ، صرف چین کو دبانے کے لئے تیار کردہ ایک سیاسی چال ہے۔

اس کا انسانی حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد امریکی حکومت لامحدود طور پر چین کو بدنام کرنا اور چین کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ چینی انسانی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ چین ایک معاشی اور سفارتی طاقت بن گیا ہے جس کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ چین کو حریف کی حیثیت سے دیکھتا ہے، اور چین کو نقصان پہنچانے کے لئے انسانی حقوق کے بہانے استعمال کرتا ہے۔

کوروالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین اپنے ملک میں  پائیدار ترقی پر عمل پیرا رہا ہے، اور چین نے سیکڑوں لاکھوں افراد کو غربت سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ عالمی  برادری نے چین کے ان قدامات کا احترام کیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

میانمار کی سابق سویلین حکمراں آنگ سان سوچی کو مزید 6 سال قید کی سزا سنا دی گئی

میانمار کی سابق سویلین حکمراں اور نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی سربراہ  آنگ سان سوچی …

Show Buttons
Hide Buttons