تازہ ترین
پاکستان افغانستان دو طرفہ تجارتی ٹریفک کی کلیئرنس بہتر بنانے کے اقدامات پر متفق

پاکستان افغانستان دو طرفہ تجارتی ٹریفک کی کلیئرنس بہتر بنانے کے اقدامات پر متفق

پاکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تجارتی ٹریفک کی جلد کلیئرنس ، سرحد پار آزادانہ نقل و حرکت، سامان کی کلیئرنس میں کارکردگی کو بہتر بنانے اور اگلے ماہ کے آخر تک دونوں ممالک کے درمیان لگژری بس سروس شروع کرنے کے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ سیکرٹری تجارت محمد صالح احمد فاروقی کی قیادت میں پاکستانی وفد کے 18 سے 20 جولائی تک کابل کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے حکام کے درمیان دو طرفہ تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دورے کا مقصد دوطرفہ، تجارت، ٹرانزٹ اور کنیکٹیوٹی کو بڑھانے کے لیے باہمی اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا تھا اور دونوں طرف سے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، تاجروں کو درپیش مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ضروری تجارتی سہولت کاری کے اقدامات کرنے تھے ۔ پاکستانی وفد میں تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندے شامل تھے جن میں اقتصادی ، تجارت، ٹرانزٹ، تجارتی تبادلے اور تمام سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر سہولت کاری کو بڑھانا شامل تھے ۔

وفد نے قائم مقام وزیر تجارت نورالدین عزیزی اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت متعلقہ افغان وزارتوں کے وزراء اور سینئر حکام سے ملاقاتیں کیں۔ بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ رواں مالی سال کے دوران دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

تجارت اور ٹرانزٹ ٹریفک کی جلد کلیئرنس کو یقینی بنانے اور رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کے لئے سرحدی کراسنگ پوائنٹس کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے عارضی داخلہ دستاویز (ٹی اے ڈی) کو نافذ کرنے پر اتفاق کیا جس سے دو طرفہ تجارتی گاڑیوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے گی اور سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کو روکا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ ہو سکے۔

دونوں اطراف کے متعلقہ حکام نے تمام کراسنگ پوائنٹس بالخصوص طورخم، خرلاچی، غلام خان اور چمن/اسپن بولدک پر آپریشنل اوقات بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے کسٹم محکموں کے سربراہان نے مل کر کام کرنے اور سامان کی کلیئرنس میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے باہمی طور پر مربوط کسٹم طریقہ کار اور نظام کو تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں فریقوں نے آ ئند ہ ماہ اگست کے آخر تک پشاور اور جلال آباد اور کوئٹہ اور قندھار کے درمیان لگژری بس سروس شروع کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ویزا پروسیسنگ میں درپیش مشکلات کو باہمی رابطوں کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ دونوں فریقوں نے ان مفاہمتوں کو عملی جامہ پہنانے اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کی "جمہوری" کڑوی گولی پر امریکی بھی ناراض ہیں، سی ایم جی کا تبصرہ

پیلوسی کی “جمہوری” کڑوی گولی پر امریکی بھی ناراض ہیں، سی ایم جی کا تبصرہ

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے حال ہی میں تائیوان کا دورہ کرتے …

Show Buttons
Hide Buttons