تازہ ترین
وزیر اعظم کی ہدایت پر تیل کے درآمدی بل میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

وزیر اعظم کی ہدایت پر تیل کے درآمدی بل میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر تیل کے درآمدی بل میں جون اور جولائی میں نمایاں کمی لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لئے بھی مؤثر اقدامات کئے جا رہے ہیں، ملک کی ضروریات کے لئے 34دن کا پٹرول اور 66 دن کا ڈیزل موجود ہے، تیل کے درآمدی بل میں کمی سے روپے کی قدر اور معیشت میں استحکام اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر برائے بجلی خرم دستگیر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے جمہوریت پر جو وار ہوا ہے اس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ہم نے معاملہ عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت پٹرولیم نے بھی ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی وافر اور بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے ہیں، درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کی وجہ سے روپے کی قدر متاثر ہوتی ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر تیل کے درآمدی بل میں خاطر خواہ کمی لائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جون کے مقابلے میں رواں سال جون میں پٹرول کی فروخت میں 9 فیصد کمی آئی، جون 2021 میں 7 لاکھ 78 ہزار میٹرک ٹن پٹرول فروخت کیا گیا تھا، رواں سال جون میں پٹرول کی فروخت 7 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن رہی ہے، اسی طرح پٹرول جو مسافر گاڑیوں اور زرعی شعبے میں زیادہ استعمال ہوتا ہے اس کے درآمدی بل میں بھی کمی آئی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں 7 لاکھ 89 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل فروخت ہوا تھا، رواں سال جون میں ڈیزل کی فروخت 7 لاکھ 12 ہزار میٹرک ٹن رہی، تیل کے درآمدی بل میں کمی سے روپیہ مستحکم ہو گا اور پٹرولیم کے شعبے میں بھی استحکام آئے گا، جولائی کے اعداد وشمار اس سے بھی بہتر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جولائی سے رواں سال جولائی تک پٹرول کی فروخت میں 30 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، 30 جولائی تک اگر یہی صورتحال رہی تو درآمدی بل مزید کم ہو گا، جولائی 2021 میں 8 لاکھ 18 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل فروخت ہوا تھا اور رواں سال جولائی میں پٹرول کی فروخت کا تخمینہ 5 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن رہنے کا امکان جبکہ ڈیزل کے درآمدی بل میں 45 سے 50 فیصد کمی متوقع ہے،

گزشتہ سال جولائی میں 7 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل فروخت ہوا جبکہ رواں جولائی میں ڈیزل کی فروخت 4 لاکھ کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جارہی ہے اور کوئی غیر ضروری چیز درآمد نہیں کی جاتی، پٹرول اور ڈیزل کی بروقت اور بلا تعطل فراہمی حکومت کی ترجیح ہے اور اس وقت ملک میں پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر موجود ہیں جن میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ملک میں 34 دن کا پٹرول موجود ہے جبکہ 20 سے 22 دن کا پٹرول ہونا ضروری ہے، اسی طرح ڈیزل کا بھی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے 66 دن کا ذخیرہ موجود ہے، وزارت پٹرولیم درآمدی بل میں کمی لا رہی ہے لیکن ذخائر کو کم نہیں ہونے دیا جا رہا اور نہ ہی ترسیل میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام وزراء اپنی اپنی وزارتوں سے متعلق بھی اسی طرح کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انرجی سکیورٹی کے لئے تمام تر اقدامات کئے گئے ہیں اور درآمدی بل میں بتدریج کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی سے درآمدی بل میں اضافہ ہوتا ہے جس کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے مشکلات ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ دنیا میں تمام ممالک کو تیل اور توانائی کے بحران کا سامنا ہے، حکومت اس صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کے درآمدی بل میں کمی سے روپیہ مستحکم ہو گا اور روپے پر دباؤ میں کمی آئی گی، معیشت کو بھی استحکام حاصل ہو گا اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئے گی۔

یہ خبر پڑھیئے

شیاؤمی نے انسان نماء روبوٹ سائبر ون کو مارکیٹ میں متعارف کروا دیا

شیاؤمی نے انسان نماء روبوٹ سائبر ون کو مارکیٹ میں متعارف کروادیا چین کی سمارٹ …

Show Buttons
Hide Buttons