تازہ ترین

اقوام متحدہ یوکرین۔روس جنگ کے مسئلے کے حل کےلئے اپنا کردار ادا کرے ، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین۔روس جنگ کے مسئلے کے حل کےلئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے تاکہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو سپلائی چین اور عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے اثرات سے تحفظ فراہم کیا جا سکے جو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)کے حصول میں تاخیر کا سبب ہے۔

”پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) اور رضاکارانہ قومی جائزے (وی این آرز) کیلئے نجی شعبے کو متحرک کرنا” کے موضوع پر ورچوئل ایونٹ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سطح پر اس مسئلے میں آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے پاکستان جیسے بہت سے ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں میں دگنا اور تین گنا اضافے کی وجہ سے انتہائی مشکل معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔

اس ورچوئل تقریب کا اہتمام یو این گلوبل کمپیکٹ (یو این جی سی) نے کیا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک اب اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے شدید دبائو میں ہیں جس کے نتیجے میں نجی شعبے پر بھی مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نجی شعبے کیلئے ان پروگراموں کیلئے اضافی وسائل حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے جو وہ ایس ڈی جیز کیلئے بروئے کار لا رہے تھے۔

احسن اقبال نے ایسے ترقی پذیر ممالک کیلئے کسی قسم کے ریلیف کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نجی شعبے کو پائیدار ترقی کے اہداف میں حصہ ڈالنے کے قابل بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں پائیدار ترقی کے اہداف کے آغاز کے فوراً بعد پاکستان کی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی ایس ڈی جیز ایجنڈے کو اپنے قومی ترقیاتی اہداف کے طور پر اپنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ابتدا سے ہی اس ایجنڈے کو ملکیت دینے کی کوشش کی، یہ کوئی عالمی ایجنڈا نہیں یہ ہمارا اپنا قومی ایجنڈا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک موسمیاتی تبدیلیوں کا تعلق ہے پاکستان سرفہرست 10 کمزور ممالک میں شامل ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے کاروبار میں مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کیلئے نجی شعبے کے ساتھ بھی شراکت داری کی ہے کیونکہ ہمارا ملک نوجوان اکثریت کا ملک ہے اور تقریباً دو تہائی آبادی کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کےلئے کوشاں رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نوجوان گریجویٹس اور انڈر گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام پیش کر رہے ہیں تاکہ انہیں روزگار کے حصول میں آسانی ہو اور انہیں مزید روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایس ڈی جیز کے اصولوں کو اختیار کرنے کےلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو حساس بنانے کیلئے خاص طور پر نجی شعبے کے ساتھ بھرپور معاونت کا پروگرام شروع کیا ہے، اس سے ہمیں پرائیویٹ سیکٹر میں بہت زیادہ رسائی ملے گی کیونکہ بڑے پیمانے کے کاروبار حساس ہیں اس لئے ان میں زیادہ بیداری ہے اور وہ ہمارے ساتھ شراکت داری کر رہے ہیں لیکن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان معلومات کا فرق ہے، لہٰذا ہم اپنی وکالت کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے اور انہیں سسٹم میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستان جیسے ملک کو کووڈ۔ 19سے بہت زیادہ نقصان پہنچا جس نے کاروبار کے تمام شعبوں کو متاثر کیا اور اب کوویڈ کے بعد کے دور میں ہم سپلائی چین کے منفی اثرات سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اوراس صورتحال میں یوکرین جنگ کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

چین کا کھلے پن کو فروغ دینے کا عزم پختہ ہے، چینی وزارت خارجہ

چین کا کھلے پن کو فروغ دینے کا عزم پختہ ہے، چینی وزارت خارجہ

بارہ اگست کو وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں ایک رپورٹر نے پوچھا کہ چائنہ کونسل فار …

Show Buttons
Hide Buttons