تازہ ترین

بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو حقیقی ترقی کا علمبردار، سی ایم جی کا تبصرہ

امریکی صدر جوبائیڈن نے چھبیس تاریخ کو جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران “گلوبل انفراسٹرکچر پارٹنرشپ پی جی آئی آئی ” اقدام کا اعلان کیا، جس میں جی سیون ممالک کے ساتھ مل کر 2027 تک عالمی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے لیے 600 بلین ڈالرز اکھٹے کیے جائیں گے جبکہ  امریکہ کی جانب سے200 بلین ڈالر فراہم کیے جائیں گے- 

امریکی قومی سلامتی کے مشیر سلیوان نے واضح کیا ہے کہ “یہ چینی پیشکش کی جگہ لے سکتا ہے اور ایک اور آپشن بن سکتا ہے۔” بیرونی دنیا میں عمومی تاثر یہی ہے کہ نام نہادپی جی آئی آئی کا مقصد چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ”  کا مقابلہ کرنا ہے۔

ایک سال  قبل، جی سیون سربراہی اجلاس نے نام نہاد”ریبلڈنگ بیٹر ورلڈ  “(بی تھری ڈبلیو )پارٹنرشپ کی تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کے لیے 40 ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اُس وقت، بائیڈن نے کہاتھا کہ یہ منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی نسبت مختلف ممالک کے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرے گا۔ لیکن ملک میں اسے خاطر خواہ پزیرائی نہ ملنے کی وجہ سے یہ منصوبہ تقریباً ختم ہو گیا اور  آج تک، متعلقہ منصوبوں میں صرف 6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بی تھری ڈبلیو اور پی جی آئی آئی دونوں کے عزائم شروع سے ہی ناپاک  ہیں، لیکن امریکی سیاست دان، انفراسٹرکچر کی تعمیر کے جھنڈے تلے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو خراب کرنے اور سیاسی عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حقائق نے ثابت کیا ہے کہ “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو نے گزشتہ نو سالوں میں لوگوں کے لیے ٹھوس فوائد حاصل کیے ہیں ۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق، اگر  بی آر آئی فریم ورک کے تحت تمام ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر  منصوبوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو 2030 تک، اس سے دنیا کے لیے سالانہ 1.6 ٹریلین امریکی ڈالر کی آمدنی متوقع ۔2015 سے 2030 تک 7.6 ملین لوگوں کو انتہائی غربت  اور 32 ملین لوگوں کو معتدل غربت سے نکالا جائے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

شیاؤمی نے انسان نماء روبوٹ سائبر ون کو مارکیٹ میں متعارف کروا دیا

شیاؤمی نے انسان نماء روبوٹ سائبر ون کو مارکیٹ میں متعارف کروادیا چین کی سمارٹ …

Show Buttons
Hide Buttons