سی پیک کی پارلیمانی کمیٹی کی عوام تک براہ راست رسائی کی حمایت کرنے پر ایف ای ایس کا اقدام قابل تعریف ہے، راجہ پرویز اشرف

سی پیک کی پارلیمانی کمیٹی کی عوام تک براہ راست رسائی کی حمایت کرنے پر ایف ای ایس کا اقدام قابل تعریف ہے، راجہ پرویز اشرف

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی شدید ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک میں پانی کی قلت روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے،پاکستان کو زراعت پر مبنی معیشت ہونے کے ناطے ایسے پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے جن سے پانی کی قلت کو دور کر کے زرعی پیداوار میں اضافہ ہو جبکہ ایسا کرنا ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں فریڈرک ایبرٹ سٹفٹنگ (ایف ای ایس) کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلز ہیگیوچ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تحقیق پر مبنی تجاویز کے لیے ایف ای ایس کے تعاون کو سراہتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان خوشگوار تعلقات موجود ہیں۔

انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی تبادلوں کے لیے ایف ای ایس کی تعاون کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے متنوع پروگراموں اور سیمیناروں کے ذریعے عوام کو سنگین بحرانوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مزید موثر بنانے کے لیے عوام اور پارلیمنٹ کے مابین قریبی رابطہ بہت ضروری ہے۔

انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی پارلیمانی کمیٹی کی عوام تک براہ راست رسائی کی حمایت کرنے کے لیے ایف ای ایس کے اقدام کو سراہا۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی دیگر پارلیمانی کمیٹیوں کے لیے بھی اسی کی تقلید کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔کنٹری ڈائریکٹر ایف ای ایس ڈاکٹر نیلز ہیگیوِش نے ایف ای ایس کی مختلف اشاعتوں کے بارے میں خاص طور پر چارٹر آف اکانومی کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی اور پاکستان کے مابین پارلیمانی تبادلے سے پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کا دورہ تائیوان عالمی تنقید کی زد میں

Show Buttons
Hide Buttons