تازہ ترین
چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش خود امریکہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی، سی ایم جی کا تبصرہ

چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش خود امریکہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی، سی ایم جی کا تبصرہ

21 جون سے امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد  یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لئے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جاسکے۔

ایک جرمن میڈیا نے 21 تاریخ کو تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لئے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی۔

یہ خبر پڑھیئے

چین نے دنیا کا سب سے بڑا کنٹینر بردار بحری جہاز سمندر میں اتار دیا

چین نے دنیا کا سب سے بڑا کنٹینر بردار بحری جہاز سمندر میں اتار دیا

چین میں تیار کئے گئے دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے کنٹینر بردار بحری …

Show Buttons
Hide Buttons