تازہ ترین
چین نے کمرشل ٹیلی سکوپ کے ذریعے پورے آسمان کا پہلا بصری سروے مکمل کر لیا

چین نے کمرشل ٹیلی سکوپ کے ذریعے پورے آسمان کا پہلا بصری سروے مکمل کر لیا

چین کی تجارتی خلائی دوربین یانگ وانگ-ون نے پورے آسمان کا بصری سروے مکمل کرلیا ہے۔

اسے تیار کرنے  والے ادارے اوریجن اسپیس نے اسے تجارتی خلائی دوربین استعمال کرتے ہوئے دنیا کا پہلا نظریاتی سروے قرار دیا ہے۔ یہ دوربین 11 جون 2021 ء کو چین کے شمالی صوبہ شان شی میں واقع تھائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے زمین کے مدار میں روانہ کیا گیا تھا، جسے شن چن میں قائم اوریجن اسپیس ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے سیارچوں کے وسائل کی تلاش اور تحقیق کیلئے تیار کیا تھا۔

اوریجن اسپیس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سُو مَنگ کا کہنا ہے کہ زمین کے مدار میں قیام کے دوران یانگ وانگ-ون  نے آسمانی سروے کے تحت ماحولیاتی روشنی، رات کو طویل فاصلے کی نگرانی اور سیارچوں کا مشاہدہ کیا۔ فلکیاتی، سیارچوں  اور خلائی ملبے کے مشاہدے کی صلاحیتوں کے علاوہ یانگ وانگ-ون رات کے وقت طویل فاصلے پر متحرک اجسام کو بھی محسوس کر سکتی ہے، جبکہ سو منگ کے مطابق روشنی مصنوعی سیاروں سے رات کے وقت لی گئی تصاویر کی مقامی ریزولیوشن 30 میٹر سے بھی کم تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

اوریجن اسپیس ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ نے مستقبل میں ایک جھرمٹ تشکیل کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جو متعدد ملٹی بینڈ خلائی دوربینوں پر مشتمل ہوگا۔ سو منگ کا کہنا ہے کہ 10 مصنوعی سیاروں کے ساتھ اس نیٹ ورک کا پہلا مرحلہ 2023ء میں مکمل ہونے کی امید ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

ایک نئی تحقیق کے مطابق سال 2053ء تک “انتہائی گرمی کی پٹی” میں رہائش پذیر …

Show Buttons
Hide Buttons