تازہ ترین

بین الاقوامی برادری کو افغان مہاجرین کی دیرینہ صورتحال کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، دفتر خارجہ

پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ملک میں پناہ گزینوں کے لیے مثالی سخاوت، مہمان نوازی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے، بین الاقوامی برادری کو افغان مہاجرین کی دیرینہ صورتحال کو فراموش نہیں کرناچا ہیے، پاکستان اس وقت بھی 30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کو پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کےلئے کی جانے والی کوششوں میں ساتھ دیں۔ بیان میں کہا گہا ہے کہ پاکستان پناہ گزینوں کے عالمی دن کی یاد میں عالمی برادری کے ساتھ شامل ہے، اس دن کو مناتے ہوئے ہم دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، یہ دن ہمیں یاددہانی کراتا ہے کہ ہم جبری نقل مکانی کے محرکات پر غور کریں اور تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل سمیت پناہ گزینوں کے حالات کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دن بین الاقوامی بوجھ اور ذمہ داری کے اشتراک کے اصول کے تحت مہاجرین کے تحفظ کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنے کا بھی موقع ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے دنیا کے سب سے بڑے اور طویل ترین مہاجرین کے حالات میں سے ایک کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر ڈالی ہے، پاکستان 30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کررہا ہے جبکہ 4 لاکھ روہنگیا باشندوں نے بھی پاکستان میں پناہ حاصل کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے دنیا بھر میں نئے حالات ابھر رہے ہیں بین الاقوامی برادری کو افغان مہاجرین کی دیرینہ صورتحال کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کووڈ سے جڑے سماجی، اقتصادی اور صحت کے چیلنجوں کے تناظر میں نئے بین الاقوامی عزم کی ضرورت ہے، افغان مہاجرین کے لیے باقاعدہ، متوقع اور مناسب مالی امداد کے ذریعے ان کی محفوظ اور باوقار واپسی کی ضرورت ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان کے استحکام اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا اہم ہے تاکہ مستقبل میں مہاجرین کے ملک سے انخلاء کے امکان کو روکا جاسکے۔ پاکستان نے اس دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یو این ایچ سی آر کو دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کی حمایت کے قابل ستائش کام پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یو این ایچ سی آر کے ساتھ اپنی قابل قدر شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا منتظر ہے، ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے لیے پائیدار حل کے لیے اس کی کوششوں میں تنظیم کا ساتھ دیں۔

یہ خبر پڑھیئے

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

ایک نئی تحقیق کے مطابق سال 2053ء تک “انتہائی گرمی کی پٹی” میں رہائش پذیر …

Show Buttons
Hide Buttons