تازہ ترین

سی پیک چین پاک ہم نصیب معاشرے کا دروازہ

حال ہی میں، میں نے چائنا میڈیا گروپ کی ایک رپورٹ پڑھی جس میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں ایسے چینی نوجوان  موجود ہیں جو خشک اور بنجر زمین کو سرسبز بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں، تاکہ مقامی لوگ زیادہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

اسے پڑھنے کے بعد میں نے کافی خوشی محسوس کی۔ چین پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر کا آغاز سنہ 2013 میں ہوا۔ اس کے بعد سے پاکستان کی تمام حکومتوں اور عوام نے اس منصوبے میں بھرپور شرکت کی اور اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ چین –پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر نے واقعی مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے اور راہداری کے منصوبے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کو دولت مند بننے کی راہ پر گامزن کرنے کی رہنمائی کی ہے۔

گوادر پورٹ چین–پاک اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے۔ اب آئیے گزشتہ برسوں کی تعمیر پر ایک نظر ڈالیں کہ  گوادر میں کیا حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ گوادر ماضی میں ماہی گیروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جو آج قوت حیات اور دلکشی سے بھرپور بندرگاہ بن چکا ہے۔ گوادر پورٹ سے چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک تک کے مقررہ راستوں کا آغاز ہوا ہے۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے پر آمدورفت سے گوادر پورٹ کو اب پاکستان کے شاہراتی نیٹ ورک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔

چین کی معاونت سے تعمیر شدہ گوادر نمائش سنٹر اور بزنس سنٹر گوادر میں ایک نمایاں اور قابل دید مقام بن چکے ہیں۔ مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے کے لیے گوادر میں چین کے تعاون سے تعمیر کئے گئے ایک سکول میں ایک ہزار سے زائد بچےدسویں جماعت تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ اس منصوبے سے علاقے میں معیارِ تعلیم بلند ہوا ہے۔ چین کے تعاون سے تعمیر کردہ طبی مراکز اور ہسپتالوں کی وجہ سے لوگوں کو صحت کی بہترین سہولیات حاصل ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کے تعاون سے زرعی شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ چین کی مدد سے نوجوان زرعی ماہرین کی تریبت کی جا رہی ہے، گرین ہاؤسز اور ڈرپ آبپاشی کی مدد سے گوارد میں خشک سالی سے بچاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا گیا ہے۔

یہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ “دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کی روشنی میں گوادر مستقل طور پر ترقی کر رہا ہے، جس سے مقامی لوگوں کو حقیقی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ گوادر فری زون کے پہلے مرحلے کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ وہاں مجموعی طور پر 46 کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں اور سرمایہ کاری کی رقم 3 ارب یوآن سے زیادہ ہے، جس سے مقامی باشندوں کو روزگار کے قریباً 5،000 مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ اس وقت، سی پیک شاندار انداز میں ترقی کرتے ہوئے اعلیٰ معیاری ترقی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ انہی ثمرات کے تحت گوادر فری زون کی تعمیر بھی دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور اس کا رقبہ پہلے مرحلے کا 36 گنا ہے۔

توقع کی جا سکتی ہے کہ مزید نئے منصوبے زیادہ غیر ملکی سرمائے کو راغب کریں گےاور مقامی ترقی میں نئے مواقع لائیں گےتاکہ زیادہ سے زیادہ مقامی افراد اس سے فائدہ اٹھائیں۔ مثال کےطور پر حال ہی میں فعال کئےگئے گوادر سی واٹر ڈیسیلینیشن پلانٹ کی تکمیل سے گوادر میں پانی کی قلت کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے سے مقامی لوگوں کا ایک درینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت میں مزید توسیع سے مقامی باشندے روایتی ماہی گیری کے علاوہ پودے لگانے کا فن بھی سکیھیں گے۔ یہ مہارت ان کی آمدنی میں اضافے میں مددگار ہو گی۔ کاشت کاری کی ترقی سے گوادر کے علاقے میں درختوں اور سبزے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور مقامی ماحول کو بہتر بنایا جائے گا۔ ماضی کاخواب ایک حقیقت کا روپ دھارےگا اور گواردر ایک ویران صحرائی ساحلی علاقے سے نخلستان کی شکل اختیار کرے گا۔

گوادر پورٹ میں روز افزوں رونما ہوتیں مثبت تبدیلیاں چین پاک اقتصادی راہداری کی گرم جوش تعمیر کی عکاس ہیں اور یہ تمام کامیابیاں مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کی جانب سے سی پیک کو بدنام کرنے اور بہتان طرازی کا مضبوط جواب بھی ہیں۔ 3000 کلومیٹر لمبی چین پاک اقتصادی راہداری ایک ایسا بانڈ ہے جو  باہمی قیمتی دوستی کو جوڑتا ہے۔ عوام کو فائدہ پہنچانا سی پیک کی تعمیر کا ہمیشہ کا مقصد ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ سی پیک کا منصوبہ پاکستانی حکومتوں اور لوگوں میں کیوں اتنا زیادہ مقبول ہےاور کیوں اس کا اتنا زیادہ خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

سی پیک سے چین پاک ہم نصیب معاشرے کے قیام میں بھرپور مدد ملے گی اور دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

یہ خبر پڑھیئے

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

ایک نئی تحقیق کے مطابق سال 2053ء تک “انتہائی گرمی کی پٹی” میں رہائش پذیر …

Show Buttons
Hide Buttons