دنیا بھر میں منکی پاکس کیسز کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہوگئی

دنیا بھر میں منکی پاکس کے کیسز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اب تک 29 ممالک میں منکی پاکس کے 1029 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز برطانیہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 302 ہے جس کے بعد اسپین 198 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

پرتگال میں 153، کینیڈا کے 80، جرمنی میں 65، فرانس میں 51، نیدرلینڈز میں 40، امریکا میں 30، اٹلی میں 20، بیلجیئم میں 17، سوئٹزرلینڈ میں 8، متحدہ عرب امارات میں 8، آسٹریلیا میں 6، آئرلینڈ میں 6، جمہوریہ چیک میں 6، سلوانیا میں 6، سوئیڈن میں 5، ڈنمارک میں 3، ارجنٹینا میں 2، فن لینڈ میں 2، اسرائیل میں 2، لٹویا میں 2، آسٹریا میں ایک، جبرالٹر میں ایک، ہنگری میں ایک، مالٹا میں ایک، میکسیکو میں ایک، مراکش میں ایک اور ناروے میں ایک کیس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

دوسری جانب سے سی ڈی سی نے منکی پاکس کے حوالے سے امریکا میں لیول ٹو الرٹ جاری کردیا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق عام افراد میں بیماری کا خطرہ تو کم ہے مگر لوگوں کو چاہیئے کہ وہ بیمار افراد کے بہت زیادہ قریب جانے سے گریز کریں۔

خیال رہے کہ یہ بیماری عموماً جان لیوا نہیں ہوتی اور اس کا آغاز بخار، مسلز میں تکلیف، لمفی نوڈز کی سوجن، کپکپی، تھکاوٹ اور ہاتھوں و منہ میں چکن پاکس جیسی خارش جیسی علامات سے ہوتا ہے۔

یہ وائرس کسی متاثرہ فرد سے جلد کے مردہ خلیات کے جھڑنے اور منہ و ناک سے خارج ہونے والے ذرات کے ذریعے دوسرے فرد میں اسی وقت منتقل ہوجاتا ہے جب وہ بہت زیادہ قریب رہے ہوں ، یا ایک ہی تولیہ اور بستر استعمال کررہے ہوں۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کا دورہ تائیوان عالمی تنقید کی زد میں

Show Buttons
Hide Buttons