تازہ ترین
پاک - چین تعلقات اور خطے کی معاشی ضروریات

پاک – چین تعلقات اور خطے کی معاشی ضروریات

تحریر: سید علی نواز گیلانی


پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں اقوام مبارک باد کی مستحق ہیں ان دونوں برادر ممالک نے ہر آڑے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے خصو صی طور چین نے نہ صرف پاکستان کی تعمیر نو کے منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے بلکہ اسکے انجینئرز اور ورکر نے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جس پر پوری قوم اہل چین کی مشکور ہے۔ چین و پاکستان کی مثالی دوستی ان کے دشمنوں کا ایک آنکھ نہیں بھا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ صدی کے بڑے منصوبے سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں رخنا ڈالنے کی پوری کوشش کر تے رہتے ہیں ان قوتوں کا خیال ہے کہ وہ اسطرح پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو کمزور کر دیں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ چین و پاکستان نے ہر دور اور مشکلات میں ثابت کیا ہے کہ ان کی دوستی دیوار چین کی طرح مضبوط ہے۔ حال ہی میں وزیر پاکستان میاں شہباز شریف نے چین کے وزیر لی کی چیانگ سے ٹیلی فونک بات میں چین کے کنفیوشس سنٹر حملے پر دلی افسوس کے اظہار کیساتھ اس عزم کا اظہار کیا ہے مستقبل میں یہ دوستی مزید مضبوط ہو گی ۔
16 مئی کو وزیر اعظم لی نے کہا کہ چین ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی سفارت کاری میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے وزیر اعظم لی کے مطابق چین پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات مضبوط بنانے، چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبوں پر تعاون کو فروغ دینے اور کورونا وبا کی روک تھام کے لئے دو طرفہ تجربات کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم لی نے نشاندہی کی کہ کراچی میں چینی شہریوں پر حالیہ حملے سے چینی صدمے اور غم و غصے کا شکار ہے اور اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔وزیر اعظم لی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے گا، سوگوار خاندانوں اور زخمیوں کو تسلی دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا اور پاکستان میں چینی اداروں و شہریوں کے لیے حفاظتی اقدامات کو جامع طور پر مضبوط کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سانحات دوبارہ نہیں ہوں گے۔وزیر اعظم شریف نے بھی کراچی دہشت گردانہ حملے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں تمام چینی اداروں اور شہریوں کے لیے حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنائے گا ۔

پاکستان کی دوستی ایسی نہیںہے کہ چند واقعات اس کو کمزور کرسکیں کیونکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے یادرہے کہ پاکستان کے چین کیساتھ رسمی تعلقات 1950 میں اس وقت قائم ہوئے جب پاکستان ڈومینین آف جمہوریہ چین (تائیوان) کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات ختم کرنے اور مین لینڈ چین پر عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل ہو گیا۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو دونوں ممالک سفارتی تعلقات 1950 میں قائم ہوئے، سرحدی مسائل 1963 میں حل ہوئے، 1966 میں فوجی امداد شروع ہوئی، 1972 میں ایک سٹریٹجک اتحاد قائم ہوا اور اقتصادی تعاون 1979 میں شروع ہوا۔ چین پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے ۔ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کو برقرار رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی حصہ ہے۔ 1986 میں صدر محمد ضیاءالحق نے سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چین کا دورہ کیا اور پاکستان کیوبا کے ساتھ ساتھ 1989 کے تیانمن اسکوائر پر ہونے والے احتجاج کے بعد عوامی جمہوریہ چین کو اہم مدد فراہم کرنے والے ان دو ممالک میں سے ایک تھا۔ پاکستان امریکی صدر رچرڈ نکسن کے 1972 کے تاریخی دورہ چین میں سہولت فراہم کر کے عوامی جمہوریہ چین اور مغرب کے درمیان مواصلاتی خلاءکو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہرا، فولاد سے زیادہ مضبوط، آنکھوں کی روشنی سے زیادہ عزیز، شہد سے زیادہ میٹھا بیان کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان کی جانب سے چین کی حالیہ حمایت کی بات کی جائے توجولائی 2019 میں پاکستان سنکیانگ میں چین کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والے 50 ممالک میں سے ایک تھا، جس نے یو این ایچ سی آر کو ایک مشترکہ خط پر دستخط کرتے ہوئے چین کی انسانی حقوق کے میدان میں نمایاں کامیابیوں کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب سنکیانگ میں امن آشتی واپس آ گئی ہے اور بنیادی طور پر وہاں تمام نسلی گروہوں کے انسانی حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسکے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا جھوٹا ہے ۔

علاوہ ازیںنومبر 2019 میں پاکستان ان 54 ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے چین کی سنکیانگ کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والے مشترکہ بیان پر دستخط کیے تھے۔جون 2020 میں پاکستان ان 53 ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے اقوام متحدہ میں ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کی حمایت کی۔سیاسی تعلقات کیساتھ ساتھ چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط فوجی تعلقات ہیں۔ دو ہمسایہ مشرقی جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان یہ اتحاد جغرافیائی طور پر اہم ہے۔ مضبوط فوجی تعلقات کا مقصد بنیادی طور پر علاقائی ہندوستانی اور امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور چین کے درمیان جاری فوجی منصوبوں اور معاہدوں کے ذریعے یہ رشتہ مضبوط ہوا ہے۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان چین کا ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے جو چینی اسلحے کی برآمدات کا تقریباً 47 فیصد ہے۔ 1962 سے چین پاکستانی فوج کے لیے فوجی سازوسامان کا ایک مستحکم ذریعہ رہا ہے۔ چین اور پاکستان فوجی اور ہتھیاروں کے نظام کو بڑھانے کے کئی منصوبوں میں شامل ہیں جن میں JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے کی مشترکہ تیاری، K-8 قراقرم پیشگی تربیتی ہوائی جہاز پاکستان ایئر فورس کے لیے تیار کردہ تربیتی طیارہ بھی شامل ہے۔ چینی ایل15 ہونگ دو، خلائی ٹیکنالوجی،اے ڈبلیو اے سی ایس سسٹمز، الخالد ٹینک جسے چین نے ابتدائی چینی قسم 90 اور/یا ایم بی ٹی2000 کی بنیاد پر تیاری میں مدد فراہم کی ۔ چین نے پاکستان کے لیے جدید ہتھیاروں کو ڈیزائن کیا ہے جو اسے جنوبی ایشیائی خطے میں ایک مضبوط فوجی طاقت بنا تا ہے۔ چین پاکستان کی گہرے پانیوںکی بندر گاہ کی تعمیر میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے جو آبنائے ہرمز کے منہ پر واقع ہے۔ اسے امریکہ اور بھارت دونوں چینی بحریہ کے لیے ایک ممکنہ لانچ پیڈ کے طور پر دیکھتے ہیںجس سے اسے بحر ہند میں آبدوزوں اور جنگی جہازوں کو لانچ کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔ چین نے حال ہی میں تقریباً 43 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔2008 میں پاکستان نے غیر ملکی عسکریت پسندوں کے مسلسل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی ہتھیاروں اور قوت کے بہتر معیار کے لیے چین سے فوجی ساز و سامان خریدا تھا۔ماضی میں چین نے پاکستان کے جوہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے خاص طور پر جب مغربی ممالک میں تیزی سے سخت برآمدی کنٹرول نے پاکستان کے لیے پلوٹونیم اور یورینیم افزودہ کرنے والے آلات کو دوسری جگہوں سے حاصل کرنا مشکل بنا دیا تھا خوشاب ری ایکٹر کی تعمیر میں بھی چین نے مدد کی مدد جو پاکستان میں پلوٹونیم کی پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چین نے چشمہ نیوکلیئر پاور کمپلیکس اور پلوٹونیم ری پروسیسنگ کی سہولت کی تکمیل میں تکنیکی اور مادی مدد بھی فراہم کی ہے جو 1990 کی دہائی کے وسط میں تعمیر کی گئی تھی۔

26 جنوری 2015 کو، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے راحیل شریف کے بیجنگ کے دو روزہ دورے کے اختتام پر پاکستان کو چین کا ہر آڑے وقت کا دوست” قرار دیا۔ راحیل شریف نے چینی حکام سے بھی ملاقات کی۔ 19 اپریل 2015 کو چین نے 5 بلین ڈالر مالیت کی آٹھ روایتی آبدوزوں کی فروخت کا فیصلہ کیاجو اس کی تاریخ میں چین کی طرف سے ہتھیاروں کی سب سے بڑی فروخت ہے۔ دونوںممالک انسداد دہشت گردی میں مثال تعاون کر رہے ہیں چین پاکستان اور افغانستان نے علاقائی استحکام کو بڑھانے کے لیے تعاون کیا ہے۔

وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین سنکیانگ کو خطے کے لیے اقتصادی ترقی کی بنیاد کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان چین کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے۔ چین کے کسٹم کے اعدادوشمار کے مطابق 2017 میں دو طرفہ تجارتی حجم پہلی بار 20 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ 2017 میں چین کی پاکستان کو برآمدات 5.9 فیصد بڑھ کر 18.25 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ پاکستان کی چین کو برآمدات 4.1 فیصد کم ہو کر 1.83 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان حال ہی میں اقتصادی تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔26 اپریل 2014 کو چائنا موبائل نے پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے اور تین سال کی مدت کے اندر اپنے عہدیداروں کی تربیت میں 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ 22 اپریل 2015 کو چائنہ ڈیلی کے مطابق، چین نے جہلم کے قریب ایک ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی تعمیر کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت اپنا پہلا غیر ملکی سرمایہ کاری کا منصوبہ جاری کیا۔ اگر اقتصادی تعاون کی بات کی جائے تو ان تمام منصوبوں کی ماں صدی کا عظیم منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہے ہے جسکا بڑا منصوبہ گوادر پورٹ ہے چین پاکستان اقتصادی رہداری پاکستان کو چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ کاشغر سے خنجراب اور گوادر کو جوڑنے والی ہائی وے کے ذریعے جوڑے گی۔ جنوبی پاکستان میں گوادر بندرگاہ چین کے لیے تجارتی مرکز کے طور پر کام کرے گی کیونکہ اس کی زیادہ تر تجارت خاص طور پر تیل کی بندرگاہ کے ذریعے کی جائے گی ۔اس وقت چین کا ساٹھ فیصد تیل خلیج فارس سے بحری جہاز کے ذریعے چین کی واحد تجارتی بندرگاہ شنگھائی تک پہنچایا جانا چاہیے جو 16,000 کلومیٹر سے زیادہ کی دوری پر ہے۔ اس سفر میں دو سے تین ماہ لگتے ہیں اس دوران بحری جہاز قزاقوں، خراب موسم، سیاسی حریفوں اور دیگر خطرات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے گوادر پورٹ کو استعمال کرنے سے فاصلہ اور ممکنہ طور پر لاگت میں کمی آئے گی۔یہ منصوبہ چینی کاروباری اداروں، گھریلو آلات میں ہائیر، ٹیلی کمیونیکیشن میں چائنا موبائل اور ہواوے اور کان کنی اور معدنیات میں چائنا میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن کے ذریعہ پہلے سے قائم کردہ مارکیٹ میں موجودگی کو بڑھانا چاہتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ چین و پاکستان مستقبل سی پیک او ربیلٹ اینڈ روٹ انیشیٹیو منصوبے سے منسلک ہے تو مبالغہ نہیں ہو گاتاہم اس مستقبل کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے جس کو مخالفین کی جانب سے بہت سے خطرات لاحق ہیں اگر دونوں ممالک اس ہی طرح برادرانہ ماحول میں کام کرتے رہے تو وہ دیگر جب سی پیک دنیا بھر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے گا اور صفر غربت کے حامل قابل فخر چین کیساتھ پاکستان کے عوام کی معاشی حالت بھی بہتر ہو گی۔

(مضمون نگار پاکستان چین فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ہیں)

یہ خبر پڑھیئے

چین کا کھلے پن کو فروغ دینے کا عزم پختہ ہے، چینی وزارت خارجہ

چین کا کھلے پن کو فروغ دینے کا عزم پختہ ہے، چینی وزارت خارجہ

بارہ اگست کو وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں ایک رپورٹر نے پوچھا کہ چائنہ کونسل فار …

Show Buttons
Hide Buttons