تازہ ترین

آزادی صحافت کی آڑ میں “ٹھگ”، سی ایم جی کا تبصرہ

ابھی حال ہی میں پاکستان کی جامعہ کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی شٹل بس کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا  جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔

تاہم، بی بی سی نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کراچی دہشت گردانہ حملے کے “ماسٹر مائنڈز”  کی تعریف کی گئی ہے اور پرتشدد دہشت گردانہ کارروائیوں کی “منطقی وضاحت” تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے

ایسا گمان ہوتا ہے کہ بی بی سی جیسے چند مغربی میڈیا ادارے  پرتشدد دہشت گردوں کو چن چن کر “وائٹ واش” کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں، بی بی سی نے سنکیانگ سے متعلق ایک اور پروگرام نشر کیا، غلط معلومات پھیلائیں، اور سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے قانون کے مطابق پرتشدد مجرمانہ دہشت گردی کے خلاف کریک ڈاؤن کو بدنام کیا، جس کی برطانیہ میں چینی سفارت خانے نے سختی سے تردید کی ہے۔

چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں بھی کچھ مغربی میڈیا نے پرتشدد دہشت گردوں کو “جمہوریت کے مظاہرین” کے طور پر پیش کیا۔دوسری جانب برطانیہ اور امریکہ میں اسی طرح کی پرتشدد دہشت گردانہ کارروائیاں سامنے آنے کی صورت میں انہی میڈیا اداروں نے فوری طور پر متشدد دہشت گردوں کی مذمت کی اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنے میں اپنی حکومتوں کا ساتھ دیا۔

بی بی سی اور اس جیسے ادارے کیوں “دہرے معیار” پر کاربند ہیں ؟ وجہ یہی ہے کہ مغربی میڈیا کی اکثریت بڑے گروہوں کے زیر کنٹرول ہے۔ مغربی ممالک میں سرمائے اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔”آزادی صحافت ” کی آڑ میں بعض مغربی میڈیا دراصل سرمائے اور طاقت کے “ٹھگ” کا کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

شدید گرمی کے باعث 2053 تک وسطی امریکہ کے 10 کروڑ افراد متاثر ہوں گے، مطالعہ

ایک نئی تحقیق کے مطابق سال 2053ء تک “انتہائی گرمی کی پٹی” میں رہائش پذیر …

Show Buttons
Hide Buttons