چین کے مستحکم اقتصادی آپریشن کے رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، سی ایم جی کا تبصرہ

ابھی حال ہی میں سولہ تاریخ کو چین کے قومی شماریات بیورو نے ایک پریس کانفرنس میں اپریل کے اہم اقتصادی اعداد و شمار کا اعلان کیا۔

پیچیدہ اور سنگین بین الاقوامی صورتحال اور ملکی سطح پر وبا سے متاثر ہونے کے باعث اپریل میں چین کے اہم اقتصادی اشاریوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ شماریات بیورو کے ترجمان نے بتایا کہ یہ وبائی صورتحال کے باعث ایک قلیل مدتی تبدیلی ہے اور اس سے ملک کے مستحکم اقتصادی آپریشن کے رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی اس سے چین کی اقتصادی لچک کی خصوصیات، عظیم صلاحیت اور وسیع گنجائش میں کوئی تبدیلی رونما ہو گی۔

اسی دوران شنگھائی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ شہر میں انسداد وبا میں حاصل شدہ کامیابیوں کی بنیاد پر جون سے معمول کی پیداوار اور روزمرہ سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، چین کے دیگرحصوں میں بھی انسداد وبا کی صورتحال مجموعی طورپر مستحکم ہو رہی ہے۔ یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ “ڈائنیمک زیروپالیسی” پر چین کا اصرار سائنسی اور موثر ہے جو  اقتصادی بحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

چینی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی وسیع منڈی کے ثمرات اب بھی واضح ہیں اور مستحکم اقتصادی آپریشن کا رجحان جاری ہے۔ مثال کے طور پر اپریل میں قومی نقطہ نظر سے صارفی مصنوعات کی کل خوردہ فروخت 2.9 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی اور درآمدات و برآمدات کا مجموعی حجم 3.2 ٹریلین یوآن رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں ملک بھر میں غیر ملکی سرمائے کا حقیقی استعمال 478.61 بلین یوآن رہا، جس میں سال بہ سال 20.5 فیصد اضافہ ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ اتار چڑھاؤ وقتی اور قلیل مدتی ہے لیکن وبا کے پھیلاؤ سے چین کے مستحکم اقتصادی آپریشن کے رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی اس سے چین کے کھلے پن کو وسعت دینے اور دنیا کے ساتھ مل کر باہمی مفادات کے حصول کا عزم کمزور ہو گا۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کا دورہ تائیوان عالمی تنقید کی زد میں

Show Buttons
Hide Buttons