“بیلٹ اینڈ روڈ” کے عمدہ ثمرات، سی ایم جی کا تبصرہ

14 مئی سے مشرقی افریقہ میں پہلی ایکسپریس وے یعنی نیروبی ایکسپریس وے نے آزمائشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ 

چینی کمپنی کی جانب سےتعمیر شدہ نیروبی ایکسپریس وے”بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کےتحت تعاون کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ ایکسپریس وے کی تعمیراتی مدت کے دوران 3,000 مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کئے جا چکے ہیں اور آپریشن کےدوران 500 روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ نیروبی کے متعدد رہائشیوں نےصحافیوں کو بتایا کہ ایکسپریس وے مقامی لوگوں کے لیے روزگار میں بہتری لانے کا اہم منصوبہ ہے۔ 

یاد رہےکہ پانچ سال قبل چودہ سے پندرہ مئی 2017 تک پہلے بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون کا بیجنگ میں انعقاد کیا گیا تھا جس میں 30 سے زائد غیر ملکی سربراہان حکومت اور اہم بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی تھی۔ شرکا نے متفقہ تعاون، اہم اقدامات اور ٹھوس کامیابیوں کے ایک سلسلے پر اتفاق کیا تھا اور عالمی برادری کو ایک مثبت اشارہ دیا گیا کہ تمام فریقین “بیلٹ اینڈ روڈ” بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں گے۔

گزشتہ پانچ سالوں میں کووڈ-19 کی وبا کے مسلسل پھیلاؤ، بڑھتی ہوئی کشیدہ بین الاقوامی صورتحال اور کمزور اقتصادی بحالی سمیت بے انتہا دباؤ کے پیش نظر، “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون کے تحت بے شمار منصوبوں جیسے نیروبی ایکسپریس وے سے ٹھوس ثمرات حاصل کئے ہیں، یوں متعدد حلقوں کو “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون کے وسیع امکانات کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا عملی موقع میسر آیا ہے۔ 

تیئیس مارچ 2022 تک چین نے 149 ممالک اور 32 بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت 200 سے زیادہ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں، جن میں رابطہ سازی، سرمایہ کاری، تجارت، مالیات، سائنس و ٹیکنالوجی، سماج، انسانی ثقافت اور لوگوں کے معاش سمیت مختلف شعبہ جات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ “بیلٹ اینڈ روڈ”  کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے وسیع  پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی ہے اور یہ چین کے وژن کی روشنی میں ایک  بین الاقوامی اتفاق رائے بن چکا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

پیلوسی کا دورہ تائیوان عالمی تنقید کی زد میں

Show Buttons
Hide Buttons