انسانی حقوق کونسل میں چینی نمائندے کا امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ہاتھوں افغان بچوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار

انسانی حقوق کونسل میں چینی نمائندے کا امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ہاتھوں افغان بچوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار

چین کے نمائندے نے سولہ تاریخ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے  49ویں اجلاس کے دوران یو این سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ برائے امور اطفال  اور مسلح تنازعات کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ  امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا سمیت دیگر مغربی ممالک کے ہاتھوں افغان  بچوں کی ہلاکت کے واقعات پر توجہ مرکوز کی جائے۔

چین کے نمائندے نے واضح کیا کہ مسلح تنازعات سے بچوں کو بچانے کا بنیادی  طریقہ مسلح تنازعات کو روکنا ہے. امریکہ اور کچھ مغربی ممالک نے “جمہوریت”  اور”انسانی حقوق” کے علم کی آڑ میں دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی  اور بار بار جنگیں شروع کی ہیں۔

امریکہ کی جانب سے افغانستان میں جنگ چھیڑ نے کے بعد  گزشتہ بیس برسوں میں افغان بچے اس سے شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ جنگ کے دوران  2005 سے 2019 تک، افغان بچوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعدادچھبیس ہزار سے  زائد رہی ہے. 2016 سے 2020 تک، امریکہ کی قیادت میں نیٹو کے فضائی حملوں میں  تقریباً 1600 افغان بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ یہ تعداد فضائی حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والے عام شہریوں کی کل تعداد کا چالیس فیصد رہی ہے۔ چین انسانی حقوق کونسل  سے اس مسئلے پر فوری توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اوپیک پر کمزور ہوتی امریکی گرفت

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons